ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ کو دو ٹوک جواب
ایران کے وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ خبر ہے کہ ایران کی تقریباً 21 ریاستوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ایران میں لوگ مہنگائی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف جمعہ یعنی 2 جنوری کو مسلسل پانچویں دن سڑکوں پر نکل آئے۔ ان مظاہروں میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان سے ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، "اگر ایران پرامن مظاہرین کو گولی مار کر بے دردی سے قتل کرتا ہے، جیسا کہ ان کا رواج ہے، تو امریکہ ان کی مدد کے لیے آئے گا اور کارروائی کے لیے تیار ہے۔" ایرانی حکام نےاسے ملک کے اندرونی معاملات میں مدخلات قرار دیا ہے اوراس امریکی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ امریکی مداخلت سے پورے خطے میں افراتفری پھیلے گی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر علی شمخانی نے ایران کی قومی سلامتی کو سرخ لکیر سے تعبیر کیا ہے۔واضح رہے خبر ہے کہ اس ہفتے ایران کے تقریباً 21 صوبوں میں درجنوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا، "ایران میں عارضی شرح مبادلہ سے متاثر ہونے والے لوگ حال ہی میں پرامن احتجاج کر رہے ہیں، جو ان کا حق ہے۔ مزید برآں، ہم نے پرتشدد ہنگاموں کے چھٹپٹ واقعات بھی دیکھے ہیں، جن میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ اور پولیس افسران پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکنا شامل ہے۔ سرکاری املاک پر مجرمانہ حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو لاپرواہی اور خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "پہلے کی طرح، ایرانی عوام اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔ ہماری افواج تیار ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں کہاں حملہ کرنا ہے۔"
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں، اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور کاروں کو آگ لگا دی۔ کچھ مسلح افراد نے شہر میں احتجاج کا فائدہ اٹھایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتشدد مظاہرے تقریباً 21 ایرانی صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔اسے 2022 کے بعد ایران کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ان مظاہروں کی بڑی وجہ معاشی بحران ہے۔ ایران میں افراط زر کی شرح 42.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔