ایرانی سفیر کا احتجاجات کے درمیان سیکیورٹی مستحکم ہونے کا دعویٰ
بدامنی کے بارے میں بات کرتے ہوئےامریکی سفیر نے کہا کہ بیرونی مداخلت حالات کومزید بگاڑنے کے لئے ذمہ دار ہے۔

ایرانی سفیر برائے تیونس نے کہا کہ "انسانی زندگی کا مطالبہ جائز ہے" اور دعویٰ کیا کہ ایران خصوصاً تہران میں اس وقت سیکیورٹی مستحکم ہے۔میر مسعود حسین یان نے تونس میں اپنی رہائش گاہ پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "حکومت معاشی مسائل حل کرنے اور مکالمے کے ذریعے حالات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"
حسین یان نے نوٹ کیا کہ ایران پر عائد پابندیوں اور بلند افراطِ زر کے باوجود انتظامیہ اصلاحات اور فیصلہ جاتی پیکجز کے ذریعے معاشی صورتِ حال بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا حالیہ مظاہروں کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے، جو زندگی کے حالات کے بگڑنے کے سبب شروع ہوئے تھے۔سفیر نے کہا کہ شہری اور سیاسی معاشرے کے ساتھ مکالمہ عوامی توقعات پوری کرنے، ترقی کو مضبوط کرنے اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنانے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔
بدامنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، حسین یان نے بیرونی مداخلت کو حالات مزید بگاڑنے کا ذمہ دار ٹہرایا اور زور دیا کہ کچھ غیر ملکی حکام اور سیاستدانوں کے بیانات نے پر امن مظاہرے کے حق کے بہانے شہری نافرمانی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے ان مداخلتوں کو 'خارجی ماخذ' سے متعلق کوششیں کہا جو بدامنی پھیلانے اور نظام کو نشانہ بنانے کے لیے گروپوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کی کوششیں ہیں۔ مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جن کا آغاز مقامی کرنسی کی تیزی سے قدر کھونے اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے سبب ہوا، اور یہ تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل گئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔