ایران-امریکہ جنگ: ٹرمپ کی مقبولیت میں زبردست زوال، محض 31 فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل، سروے میں انکشاف
سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت میں ہیں۔ مارچ میں یہ 37 فیصد اور رواں ماہ کے آغاز میں یہ 34 فیصد تھا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جب جنگ شروع کی تھی تو انھیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ انھیں کس قدر نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طویل جنگ کے بعد امریکہ کو جہاں اقتصادی طور پر شدید خسارہ کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہیں ٹرمپ کی مقبولیت بھی امریکہ میں بہت گھٹی ہے۔ ایک تازہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ ذیلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
’رائٹرس ایپسوس‘ کے تازہ سروے میں امریکی صدر کا گراف بہت نیچے جانے سے متعلق انکشاف ہوا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے معاملہ میں بھی لوگوں کی حمایت گھٹی ہے۔ سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت میں ہیں۔ مارچ میں یہ 37 فیصد اور رواں ماہ کے آغاز میں یہ 34 فیصد تھا۔ یعنی وقت کے ساتھ جنگ کو حمایت دینے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔
اس سروے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ 1215 امریکی بالغوں کو شامل کیا گیا اور سروے 4 دنوں تک ملک بھر میں کیا گیا۔ اس میں غلطی کا امکان 3 فیصد تک بتایا گیا ہے اور اس سروے میں 83 فیصد لوگوں نے جنگ کے طویل چلنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے حامیوں میں بھی ایران جنگ کو لے کر حمایت کم ہوئی ہے۔ تازہ سروے میں 69 فیصد ریپبلکن نے جنگ کی حمایت کی، جبکہ مارچ میں یہ 77 فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی حمایت میں آئی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ ریپبلکن حامیوں کا بدلتا رخ ہے۔
سروے میں 83 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل چل سکتی ہے، جبکہ رواں ماہ کے شروع میں یہ نمبر 80 فیصد تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں مہنگائی پر قابو پانے کی بات کہی تھی اور طویل جنگ سے بچنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ لیکن اب ایران کے ساتھ طویل جنگ کا سامنا ہے اور مہنگائی بھی قابو میں نہیں ہے۔ رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل کے مقابلے امریکہ میں پٹرول کی قیمت فی گیلن ایک ڈالر سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اس درمیان امریکہ نے ایران سے جڑے کچھ لوگوں اور اداروں کے خلاف نئی کارروائی کی ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ اسلحہ خریداری، امریکی توانائی، دفاعی و صحت ڈھانچہ میں سائبر دراندازی اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے لیے رقم جمع کرنے والی جائزہ تیل شپمنٹ سے منسلک ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی چیف ترجمان ٹاپی پگاٹ نے دنیا کے دیگر ممالک سے انھیں جوابدہ ٹھہرانے میں امریکہ کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
