ٹرمپ کے انکار کے بعد آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی شرائط پر قائم ایران
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’’ہم نے سفارت کاری یا بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، لیکن ساتھ ہی ہم اپنے حقوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔‘‘

ایران نے آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کی اپنی شرائط میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو اس حوالے سے بیان دیا۔ ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی امن تجویز کو مسترد کرنے کے بعد اپنا موقف واضح کیا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایک ایسی آبی گزرگاہ ہے جو دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اب یہی واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ کشیدگی تقریباً 7 ماہ قبل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران کے منصوبے میں مشرق وسطیٰ (لبنان سمیت) میں ہر طرح کی دشمنی ختم کرنا اور اس جنگ بندی معاہدے کی شرائط مکمل کرنا شامل تھا جو کئی ماہ قبل ٹوٹ گیا تھا۔ آبنائے ہرمز سے متعلق لڑائی کے دوران ٹوٹنے والے اس معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹانے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ’’ہماری شرائط واضح ہیں اور ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی سمت میں کوئی بھی قدم ان شرائط کی تکمیل پر ہی منحصر ہوگا۔ ہم ان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے سفارت کاری یا بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، لیکن ساتھ ہی ہم اپنے حقوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ (26 ستمبر) کو کہا تھا کہ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ’’وہ ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت وہ فوراً آبنائے ہرمز کھول دیں، کیونکہ انہیں بہت بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور میرے خیال میں یہ ٹھیک ہے۔ مجھے بھی معاہدہ کرنا پسند ہے۔‘‘ عراقچی نے اتوار کو یہ بھی کہا کہ ایرانیوں نے ’’امریکی صدر کا پہلا ردعمل دیکھا ہے، لیکن اب تک ثالثوں کی جانب سے ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
