ایران شرائط کے ساتھ آبنائے ہرمز کو سات دنوں میں کھولنے کے لیے تیار
ایران نے امریکہ کو سات روزہ پلان پیش کر دیا۔ اس نے تین شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے بعد ایٹمی معاملے پر بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی تین شرائط مان لے تو یہ اہم سمندری راستہ سات دن کے اندر کھول دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام پر بات چیت بھی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ فیصلہ اب امریکہ پر منحصر ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران نے یہ تجویز قطر کے ذریعہ امریکا کو بھیجی ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ کو کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نئے نہیں ہیں بلکہ جون کے معاہدے میں پہلے سے شامل ہیں۔ امریکہ کی طرف سے تجویز کی منظوری کے بعد سات دن کی ڈیڈ لائن شروع ہو جائے گی۔ ایران کی تجویز میں امریکہ سے جن تین اہم اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے وہ ہیں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیاجائے،ایران کے تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی کی جائے اور ایسی جنگ بندی نافذ کی جائے جس میں لبنان بھی شامل ہو۔ عراقچی نے کہا کہ یہ امریکی اقدامات چار سے پانچ دنوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز کو چھٹے دن کھول دیا جائے گا۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات ساتویں روز دوبارہ شروع ہوں گے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ فیصلہ اب امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران دباؤ، دھمکیوں یا دھمکانے کی کوششوں کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران دباؤ میں آکر اپنے خود مختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ اس تجویز کو قبول کرتا ہے تو سات دن کی ڈیڈ لائن اسی دن سے شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے لیے ضروری تیاریاں مکمل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئیں لیکن کوئی دیرپا حل نہیں نکل سکا۔
سفارتی بحران کے درمیان، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے چینی صدر ژی جن پنگ کی حمایت کی تعریف کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ ژی جن پنگ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد معاہدے میں واپسی اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی حمایت کی۔ ایران کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران مغربی دباؤ کے درمیان چین جیسے شراکت داروں کو اعتماد میں رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
ایران کی موجودہ تجویز جون میں طے پانے والے معاہدے سے ملتی جلتی ہے۔ اس معاہدے میں 60 دن کی عبوری مدت شامل تھی، لیکن یہ انتظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔ اب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔ امریکا اور ایران ایک دوسرے پر جون کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
