ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، لیکن امریکہ کے سامنے نہیں جھکے گا: صدر پیزشکیان
پیزشکیان نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ ایران کو خودسپردگی پر مجبور کر سکتا ہے، لیکن ہم زور زبردستی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جمعہ کے روز ایک بار پھر دہرایا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا ہے، اور تہران کے خلاف پروپیگنڈے کو جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ان کے دفتر کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق پیزشکیان نے یہ بات آرمینیا کے راجدھانی یریون میں حیاتیاتی تنوع کانفرنس (سی او پی17) کے موقع پر جارجیا کے وزیر اعظم اراکلی کوباخدزے کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ خبر رساں ایجنسی ’شنہوا‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا نہیں چاہتا اور ہم اپنے ملک کے خلاف تباہ کن پروپیگنڈے کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی کے حوالے سے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے واضح موقف کا حوالہ بھی دیا۔
پیزشکیان نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ ایران کو خودسپردگی پر مجبور کر سکتا ہے، لیکن ہم زور زبردستی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں انسانی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔ اس موقع پر جارجیا کے وزیر اعظم کوباخدزے نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔
ایک ملاقات میں ان کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان کے ساتھ ملاقات کے دوران پیزشکیان نے کہا کہ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران خودسپردگی نہیں کرے گا۔ وہ اپنے عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تال میل برقرار رکھتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ دنیا سے اپنے تعلقات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کی پابندیوں نے ایران اور پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن اسی راستے پر چلتا رہا تو پوری دنیا کے لیے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
پیزشکیان نے واشنگٹن سے کہا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے دلیل کی بنیاد پر مذاکرات کرے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ تنازعہ ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آئے گی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مونٹانا میں ایک انتخابی ریلی کے لیے ایریزونا سے روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے تنازعہ کے جلد خاتمے کو تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی معیشت میں بہتری سے جوڑا۔
