ایران کے شمالی عراق پر توپ اور ڈرون سے حملے

ایران کے مغربی سرحد میں کئی برسوں سے مسلح گروپ اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈس کارپس (آئی آر جی سی) نے شمالی عراق کے اربِل شہر میں دہشت گردانہ مقامات پر توپ اور ڈرون طیاروں کی مدد سے حملے کیے ہیں۔ نیم سرکاری ایجنسی ہم شہری نے یہ اطلاع دی ہے۔

ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آئی آر جی سی نے فضائیہ کے میزائل اور ڈرون آلات سے حملہ کیا اور اس دوران10 دہشت گرد مارے گئے یا زخمی ہو گئے۔


پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں یہ کاروائی کی گئی ۔ آئی آر جی سی کے گراؤنڈ فورس کمانڈر محمد پاکپور نے پیر کے روز کہاتھا کہ دہشت گرد گروہ عراق کا استعمال ایران پر حملے کے لیے ایک محاذکے طور پر کر رہے ہیں اور اس طرح کے حملوں سے ایران ’سخت کاروائی‘ کے ذریعے نمٹے گا۔

ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل (ایس این ایس سی) کے سکریٹری علی شامخانی نے 10 اگست کو ایران کے دورے پر آئے عراقی وزیرخارجہ فواد حسین سے شمالی عراق میں نیم خودمختار کردستان علاقے میں ’ایران مخالف مسلح دہشت گرد گروپ‘ کو نکالنے کی درخواست کی تھی۔ ایران کے مغربی سرحد میں کئی برسوں سے مسلح گروپ اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔