تہران پر حملہ کرنے کی تیاری میں امریکہ، ایف-22 اور ایف-35 جنگی طیاروں سے کی گھیرا بندی، ایران نے جاری کیا ’نوٹم‘
2 ’امریکی کیرئیر بیٹل گروپ‘ تہران کے قریب موجود ہے، جن میں سے ایک ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ ایران کے انتہائی نزدیک ہے جبکہ دوسرا ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ بھی مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکہ کے ممکنہ حملے کے پیش نظر ایران نے پورے ملک میں ’نوٹس ٹو ایئر مشن‘ (نوٹم) نافذ کر دیا ہے۔ نوٹم کی وجہ سے پورا ایران ’نو فلائی زون‘ بن گیا ہے۔ ایران نے یہ نوٹم پورے ملک میں راکٹ ٹیسٹ کے لیے جاری کیا ہے، جبکہ امریکہ نے اپنے ایف-22 اور ایف-35 جیسے خطرناک فائٹر جیٹس سے ایران کی گھیرا بندی کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اس ہفتے کے آخر تک تہران پر حملہ کر سکتا ہے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپنے طاقتور ایف-35 اور ایف-22 جیسے فائٹر جیٹس ایران کے قریب تعینات کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2 ’امریکی کیرئیر بیٹل گروپ‘ تہران کے قریب موجود ہیں، جن میں سے ایک ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ ایران کے انتہائی نزدیک ہے جبکہ دوسرا ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ بھی مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں فائٹر جیٹس اور فضائی بیڑے کو تیار کر لیا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جلد فوجی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں امریکہ کی کسی بھی فوجی کارروائی کے طویل ہونے کا امکان ہے، جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی ملاقات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، لیکن اب تک دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ کچھ امور پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہوا ہے، لیکن ایران امریکی صدر ٹرمپ کی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یکم فروری 2026 کو امریکہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی عوام کسی بھی دھمکی سے نہیں ڈرتے۔ ایران پہلے کسی ملک پر حملہ کرنے کی پہل نہیں کرے گا، لیکن اگر کسی بھی ملک کی جانب سے حملہ کیا گیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔