مراکش میں پی اے ایم کی نظریں چھوٹی جماعتوں پر!

پی اے ایم مراکش کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری لیکن وہ اکثریت سے محروم رہی۔ اب اسے حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

مراکش میں انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے تاہم حکومت سازی کا راستہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ صداقت اور جدیدیت پارٹی (پی اے ایم)نے سب سے زیادہ نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارٹی نے 395 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 97 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم، اکثریت سے محروم ہونے کے باعث اسے اب دوسری جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑے گا۔

پی اے ایم کی جیت اس لیے بھی خبروں میں ہے کہ اس کے کچھ سینئر ارکان منشیات اور سونے کی اسمگلنگ کے ایک بڑےا سکینڈل میں ملوث تھے۔ ان میں سے کئی کو جیل کی سزا بھی سنائی گئی۔ اتنے تنازعات کے باوجود پارٹی پچھلی بار سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ دوسری طرف، نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹ(آر این آئی)، جو پچھلی حکومت کا حصہ تھی، کو نقصان ہوا، جس نے 66 سیٹیں جیت لیں۔ دریں اثنا، جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (پی جے ڈی) نے اس بار 54 سیٹیں جیتیں، جو کہ 2021 میں 13 سے زیادہ ہیں۔


الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی بننا ایک بات ہے لیکن حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ پی اے ایم کے پاس اتنی سیٹیں نہیں ہیں۔ پارٹی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ آر این آئی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ پی جے ڈی کے شامل ہونے کے امکانات بھی کم ہیں۔ دونوں جماعتوں میں دیرینہ سیاسی اختلافات ہیں۔ پی جے ڈی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کی بات کی ہے۔

ایسے میں پی اے ایم کی نظر چھوٹی جماعتوں پر ہوسکتی ہے، بشمول تیسرے نمبر پر آنے والی استقلال پارٹی۔ حکومت بنانے کے لیے ان جماعتوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ مزید سیاسی فیصلوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ اتحاد میں کون کون شامل ہوگا۔


مراکش 2030 فٹ بال ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ایونٹ کی تیاریوں میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والی حکومت کو ’’ورلڈ کپ حکومت‘‘ کہا جا رہا ہے۔ملک کے عوام  بے روزگاری، کم اجرت، مہنگائی، بہترا سکول، اسپتال، اور سستی رہائش کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پچھلے سال بھی نوجوانوں کی قیادت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ اس الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 38فیصد  دیکھا گیا جو کہ 2007 کے بعد سب سے کم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔