پاکستان کے کراچی شہر میں پولیس کا جماعت اسلامی  کارکنان پر لاٹھی چارج

پاکستان کے کراچی شہر میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ’جینے دو کراچی کو ‘مہم کے تحت سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کل یعنی ہفتہ کو پاکستان کے سب سے نمایاں شہر کراچی میں اس وقت افرا تفری پھیل گئی جب جماعت اسلامی نے ’جینے دو کراچی کو‘ مہم کے ایک حصے کے طور پر سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں شہر کی خراب سڑکوں، نکاسی آب کے مسائل اور بنیادی شہری سہولیات کی بہتری کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور کراچی کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ تاہم مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

ہفتے کے روز، جب مظاہرین نے سندھ اسمبلی کی طرف مارچ کیا تو انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے قریب کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس کے مطابق کچھ مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پتھراؤ کیا جس پر پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس دوران کم از کم دس کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور پارٹی کا ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیا گیا۔


خبروں کے مطابق جھڑپ کے دوران جماعت کا ایک کارکن زخمی ہوا جب کہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ سندھ کے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ انتظامیہ نے پارٹی کو پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی تھی۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کراچی نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جماعت  نے کہا کہ پارٹی کے مظاہرین کا مقصد کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا تھا، اور پولیس کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔