’امن مذاکرہ ناکام ہوا تو حملہ کریں گے، جنگی طیاروں میں خطرناک اسلحے بھرے جا رہے‘، ایران کو ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ بات چیت کامیاب ہوگی یا نہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر عارضی اتفاق کے درمیان امن مذاکرہ پاکستان میں ہونے والا ہے۔ لیکن اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان سے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو امریکہ حملہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی جنگی طیاروں میں تیزی سے نئے اور جدید ترین اسلحے بھرے جا رہے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ایران پر فضائی حملے کیے جا سکیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ بات چیت کامیاب ہوگی یا نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پہلے بھی ایران پر حملے کر چکا ہے، لیکن اس بار اس سے بھی زیادہ طاقتور اسلحے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ان اسلحوں کا استعمال نہایت مؤثر انداز میں کیا جائے گا اور اس سے شدید نقصان ہو سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سامنے کچھ اور کہتا ہے اور میڈیا میں کچھ الگ بیان دیتا ہے۔ ان کے مطابق ایران ایک طرف جوہری اسلحے ختم کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری جانب یورینیم افزودگی جاری رکھنے کی بات بھی کرتا ہے، اس لیے ایران پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ایران کے پاس کوئی مضبوط متبادل نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کا استعمال کر کے دنیا پر عارضی دباؤ ڈالے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیڈران آج صرف اس لیے زندہ ہیں تاکہ وہ بات چیت کر سکیں۔ ٹرمپ نے مزید الزام لگایا کہ ایران جنگ میں طاقت دکھانے کی جگہ فرضی نیوز میڈیا اور پبلک ریلیشنز کو سنبھالنے میں زیادہ ماہر ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی شبیہ بہتر بنانے اور دنیا کو متاثر کرنے پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ اتنا مضبوط نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ہونے ہیں، لیکن اس پر اب بھی معمہ برقرار ہے، کیونکہ ایران نے بات چیت سے قبل 2 شرائط رکھ دی ہیں۔ پہلی، شرط لبنان میں جنگ بندی نافذ کرنے کی ہے، اور دوسری شرط ہے ایران کے وہ اثاثے جو امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں، انہیں جاری کیا جائے۔ اس درمیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی وفد ابھی تک وہاں نہیں پہنچا ہے۔