’شہید والد کے انتقام کی قسم کھاتا ہوں...‘، علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد بیٹے مجتبیٰ کا پہلا بیان منظر عام پر
علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد جاری اپنے پیغام میں مجتبیٰ نے ایران اور عراق میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کی تعریف کرتے ہوئے اسے حمایت کا غیر معمولی مظاہرہ قرار دیا۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد پہلی بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے انتقام لینے کے عزم کو دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انتقام لینا صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک لازمی فریضہ ہے، چاہے وہ خود اس منصب پر رہیں یا کوئی اور۔‘‘ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک ہونے والے ’حیرت انگیز، دشمنوں کی کمر توڑ دینے والے اور تاریخی‘ مجمع کی دل سے تعریف کی اور عہد کیا کہ ’مجرموں اور قاتلوں‘ سے ضرور بدلہ لیا جائے گا۔
علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد جاری اپنے پیغام میں مجتبیٰ نے ایران اور عراق میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کی تعریف کرتے ہوئے اسے حمایت کا غیر معمولی مظاہرہ قرار دیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’ہم شہید لیڈر اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے مقدس خون کا انتقام لینے کا عہد کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملہ آوروں کی فہرست اعلیٰ ترین سطح سے نچلی سطح تک تیار کر لی گئی ہے، جو واضح طور پر جوابی کارروائی کی تیاری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران نے ایک ’کِل لسٹ‘ تیار کی ہے، جس میں ان کا نام سب سے اوپر ہے۔
بہرحال، مجتبیٰ نے کہا کہ ’’میں ایران اور عراق کے شہروں اور دیہات، خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کروڑوں لوگوں کی موجودگی کی دل سے تعریف کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اس مجمع کو حیرت انگیز، دشمنوں کی کمر توڑ دینے والا اور تاریخی قرار دیا۔ اپنے والد علی خامنہ ای سے مخاطب ہوتے ہوئے مجتبیٰ نے کہا کہ ’’اشک بار آنکھوں اور بوجھل دل کے ساتھ جب ہم آپ کو آخری الوداع کہہ رہے ہیں تو ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ کے نظریے کو زندہ رکھیں گے اور آپ کے دکھائے ہوئے سیدھے راستے پر ثابت قدمی سے چلیں گے۔ ہم کسی بھی مشکل سے نہیں ڈریں گے۔‘‘
مجتبیٰ نے امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ کیے گئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے ذمہ دار لوگ اپنے بستروں پر پُرسکون موت کا خواب لے کر اپنی قبروں میں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وعدہ میری یا کسی دوسرے عہدیدار کی موجودگی پر منحصر نہیں ہے۔ ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اور جلد ہی دنیا بھر کے آزاد لوگ اس مقدس مشن کا حصہ بنیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کے ساتھ شہید ہونے والوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ خوش نصیب ہیں، کیونکہ اب آپ ان کے مہمان ہیں جن کی آپ نے پوری وفاداری کے ساتھ خدمت کی تھی۔‘‘
واضح رہے کہ علی خامنہ ای کی موت 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہوئی تھی۔ اس حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔ ان کی تدفین 9 جولائی کو عمل میں آئی۔ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای خود بھی زخمی ہوئے تھے۔ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد مجتبیٰ کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ کسی محفوظ مقام پر پناہ لیے ہیں اور اپنے والد کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
