’میں لوگوں کی جان لینا نہیں چاہتا‘، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہیں کرنے کا پیش کیا جواز
ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا، کیوں کہ میں لوگوں کی جان لینا نہیں چاہتا ہوں۔ ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے حملے کے لیے تیار تھے۔‘‘

امریکہ اور ایران کے مابین جاری جنگ جلد ہی ختم ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور فوجی کارروائی کے بجائے کسی معاہدے کو ترجیح دے گا۔ حالانکہ سفارت کاری پر زور دینے کے باوجود ٹرمپ اپنے پرانے موقف پر قائم ہیں کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایران سے جنگ کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان پر حملہ کر رہے ہیں، حالانکہ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا، کیوں کہ میں لوگوں کی جان لینا نہیں چاہتا ہوں۔ ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے حملے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ برائے مہربانی ایسا نہ کریں اور آکر بات کریں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے ایسا کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ ہماری عزت کرتے ہیں۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے ہیں۔‘‘
امریکہ اور ایران کو جنگ کی وجہ سے کافی نقصان ہو رہا ہے۔ امریکہ اب تک ایران کے مختلف ٹھکانوں پر حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کر چکا ہے۔ ان وجوہات کے سبب امریکہ کو خطیر رقم خرچ کرنی پڑ رہی ہیں اور زبردست نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اب جنگ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین معاہدہ ہوتا ہے تو اس سے آبنائے ہرمز پر کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ مگر یہ تبھی ہو سکتا ہے، جب دونوں ممالک متفق ہوں۔ معاہدے کی خبروں کے درمیان ایران کے ایک سینئر فوجی افسر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی بحری جہازوں کے لیے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اگر جہازوں کو راستہ نہیں دیا گیا تو تہران امریکہ کے جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔
