افغانستان میں زلزلہ سے مچی تباہی کے بعد طالبان نے کی بین الاقوامی امداد کی اپیل

طالبان کے سینئر افسر عبدالقہر بالخی نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ضرورت کے حساب سے لوگوں کی مالی امداد کرنے میں اہل ہے، کیونکہ افغانستان انسانی اور معاشی بحران سے نبرد آزما رہا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

افغانستان میں بدھ کو آئے زلزلہ نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ 6.1 شدت کے زلزلہ میں سینکڑوں گھر اور عمارتیں زمیں دوز ہو گئیں اور 1000 سے زائد افراد کی موت ہو گئی۔ اس حادثہ کے بعد ملک کی طالبان حکومت نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔ اس تباہی میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے سینئر افسر عبدالقہر بالخی نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ضرورت کے حساب سے لوگوں کی مالی مدد کرنے میں اہل ہے، کیونکہ افغانستان انسانی اور معاشی بحران سے نبرد آزما رہا ہے۔ امدادی ایجنسیوں، پڑوسی ممالک اور عالمی قوتوں کے ذریعہ امداد ملنے کے باوجود بالخی نے کہا کہ امداد کو کافی حد تک بڑھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک تباہناک زلزلہ تھا۔


اس درمیان طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے دعویٰ کیا کہ سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے اور مہلوکین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ بچاؤ ٹیم اور ایمرجنسی ملازمین اب بھی ملبے میں دبے لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ زلزلہ کا مرکز خوست شہر سے 44 کلومیٹر دور تھا، لیکن جھٹکے پاکستان اور ہندوستان تک محسوس کیے گئے تھے۔

متاثرہ علاقوں کے مقامی لوگوں کے مطابق زلزلہ کے بعد طالبان کے ذریعہ ڈھلمل رویہ اختیار کیا گیا۔ واقعہ کے تقریباً آٹھ گھنٹے بعد طالبان کابینہ کے اراکین نے طبی سہولیات کے لیے پانچ ہیلی کاپٹرس کو بھیجا۔ علاوہ ازیں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مہلوکین کے کنبہ کے لیے ایک لاکھ اور زخمیوں کو پچاس ہزار کا معاوضہ دے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔