اپنے ملک یمن کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے حوثی باغی، انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ لاحق

یو این ایچ سی آر کے بیان میں انتباہ دیا گیا ہے کہ تشدد کے سبب انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہے، کیوںکہ زیادہ تر افراد بےگھر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے محدود وسائل والی کمیونٹیز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>حوثی باغی (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i

یمن میں حوثی باغیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار افواج کے درمیان جاری تنازعہ نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے اثرات عام لوگوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک کے مغربی ساحل پر تیزی سے بڑھ رہے تشدد کے سبب ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے۔ ہزاروں افراد اپنی جان بچانے کی خاطر خطرناک سمندری راستوں سے جبوتی پہنچ رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حوثی اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ہی پریشانی کا سبب بن گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے 15 ستمبر کو جاری بیان میں بتایا کہ یمن کے مغربی ساحل پر تشدد تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ایک لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد محفوظ مقام کی تلاش میں آبنائے باب المندب کو عبور کر کے جبوتی میں پناہ لی ہے۔ یو این ایچ سی آر کے بیان میں انتباہ دیا گیا ہے کہ تشدد کی وجہ سے انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہے، کیوں کہ بیشتر افراد بے گھر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے محدود وسائل والی کمیونٹیز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق یمن کے اندر بے گھر خاندانوں کی ایمرجنسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 14 ملین ڈالر، نئی فنڈنگ ​​کی ضرورت ہے، ساتھ ہی جبوتی پہنچنے والوں کے لیے اضافی امداد کی ضرورت ہے۔


ایجنسی نے بیان میں کہا ہے کہ کئی کنبے تھوڑے سے سامان کے ساتھ بھاگ گئے ہیں۔ پناہ گاہ، خوراک، صاف پانی، صحت کی دیکھ بھال اور حفاظتی خدمات سب سے اہم ہیں۔ کیونکہ پناہ گاہیں اور نقل مکانی کی جگہیں بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔ نقل مکانی مراکز اور قریبی علاقوں میں وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یمن میں پہلے سے موجود 65000 سے زائد رجسٹرڈ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی بھی تنازعات کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے، جو صومالیہ اور ایتھوپیا سے آئے تھے۔ نقل مکانی اس وقت شروع ہوئی، جب ایران حمایت یافتہ حوثیوں نے تیزی سے پیش قدمی شروع کی اور باب المندب پر ​​اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحل پر قبضہ کر لیا۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق گزشتہ 4 دنوں میں 2400 سے زیادہ لوگ اس سمندری راستے سے جبوتی پہنچے ہیں۔ ان میں بیشتر خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ جبوتی میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ سینڈرین ڈیسامورس نے کہا کہ لوگ ایک مشکل ترین سمنمدری راستوں سے پہنچ رہے ہیں، اور پریشان ہیں۔

ایک بے گھر خاتون عائشہ محمد کو اپنے 5 بچوں کو بندرگاہ والے شہر موچا کے قریب گاؤں میں اُس وقت چھوڑنا پڑا جب گزشتہ ہفتے حوثیوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ خاتون نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اس لیے وہ اپنے گھروں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری بیٹیوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ آنا چاہتی ہیں، لیکن یہ بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ادھر حدیدہ سے ایک بے گھر شخص حسین حیدرہ نے کہا کہ وہ اچانک اپنے خاندان کے ساتھ بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے بچوں اور کچھ ضروری سامان کو مشکل سے لے جاسکتے تھے۔ ہم گولہ باری اور اسنائپر فائر سے بہت خوفزدہ تھے، اور اپنے بچوں اور خاندان کی حفاظت کے خوف سے جتنی جلدی ممکن ہو وہاں سے بھاگے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔