یمن میں جاری جنگ کے باعث لوگ گھر چھوڑنے کو مجبور: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے پیر کو بتایا کہ ستمبر کے آغاز سے اب تک یمن میں دوبارہ بھڑکنے والے تشدد کے باعث کم از کم 1.25 لاکھ افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>یمن، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

اقوام متحدہ (یو این) سے وابستہ انسانی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب پہلے سے دباؤ میں چل رہے امدادی کاموں پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے پیر (14 ستمبر) کو بتایا کہ ستمبر کے آغاز سے اب تک یمن میں دوبارہ بھڑکنے والی تشدد کی لہر کے باعث کم از کم 1.25 لاکھ افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔

’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے رواں ماہ کے پہلے 2 ہفتوں میں 40 عام شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان میں 8 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نصف اور زخمی ہونے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہفتے تک ہزاروں خاندانوں تک امداد پہنچائی جا چکی تھی۔ حالانکہ امدادی سامان کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے اور دستیاب فنڈنگ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔


او سی ایچ اے کے مطابق سیکورٹی سے متعلق خطرات کے باعث امدادی ایجنسیوں کی نقل و حرکت اور امداد پہنچانے کا کام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ یمن کے مغربی ساحل کے کئی علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے اور امدادی کارکنوں کی نقل و حرکت فی الحال رکی ہوئی ہے۔ کئی اہم سڑکیں یا تو بند ہیں یا ان پر سفر کرنا ممکن نہیں ہے۔ او سی ایچ اے نے ایک بار پھر تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں، بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور امدادی سامان کو محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے دیں۔

قابل ذکر ہے کہ یمن کی سرکاری فوج نے اتوار (13 ستمبر) کو دعویٰ کیا کہ مغربی ساحلی علاقے میں حوثی باغیوں کے ساتھ ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی میں اس کے 500 سے زائد فوجی ہلاک اور تقریباً 1500 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ تصادم اس وقت ہوا جب حوثیوں نے اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی۔ سرکاری فوج کی نیشنل ریزسٹنس فورسز نے الجمہوریہ ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ 9 اگست سے 10 ستمبر کے درمیان یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس دوران 1000 سے زائد حوثی لڑاکے مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔