ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی منظور

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کوکل اس وقت زبرست جھٹکالگا جب ایوان نمائندگان نے ان کےخلاف مواخذہ کی کارروائی کو منظوری دےدی

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

امریکی سیاست نے کل اس وقت ایک نیا تاریخی موڑ دیکھا جب ڈیموکریٹک کنٹرول والے امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دے دی۔

اس سے قبل ایوان میں کئی ہفتوں تک اس بارے میں بحث مباحثہ ہوتا رہا جس دوران ٹرمپ کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کا معاملہ بھی گفتگو کا موضوع بنا رہا۔

جمعرات کے روز ایوان میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج پارٹی لائن کے مطابق رہے۔ مواخذے کی کارروائی کے حق میں 232 جب کہ اس کی مخالفت میں 196 ووٹ آئے۔ووٹنگ کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اسے ’’امریکی تاریخ میں بے پرَ کی اڑانے کا سب سے بڑا واقعہ‘‘ قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری اسٹیفن گریشن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’صدر نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے‘‘۔انہوں نے ایوان کی جانب سے مواخذے کی کارروائی کی منظوری کو ’’غیر منفصافہ، خلاف آئین اور بنیادی طور پر امریکیوں کے مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔

ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی مواخذے کی کارروائی کے ایک عرصے تک مخالف رہی ہیں۔ لیکن وہ اچانک ٹرمپ کے خلاف ہو گئیں اور ان کے مواخذے پر زور دینے لگیں۔جمعرات کو شروع ہونے والے مباحثے کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص کانگریس میں صدر کے مواخذے کے لیے نہیں آتا، تاوقتیکہ ان کے اقدامات اس عہدے کے لیے اٹھائے گئے حلف کو نقصان نہ پہنچائیں۔