کانگو میں پیش آیا خوفناک طیارہ حادثہ، 2 لیفٹیننٹ جنرل سمیت 14 افراد جاں بحق
طیارہ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں میں ملٹری کورٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل موتونبو کاتالائی تیندے اور مسلح افواج کے آڈیٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل باکومی لیکولیا شامل ہیں۔

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں جمعہ (25 ستمبر) کی صبح ایک خوفناک طیارہ حادثہ پیش آیا۔ اس حادثے میں فوج کے 2 سینئر افسران سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ کانگو کی فوج نے ہفتہ کو اس کی تصدیق کی۔ ہلاک ہونے والوں میں ملٹری کورٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل موتونبو کاتالائی تیندے اور مسلح افواج کے آڈیٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل باکومی لیکولیا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ وفد کے دیگر ارکان اور طیارے میں موجود کیبن کریو کے افراد بھی حادثے میں ہلاک ہوئے۔
کانگو کی فوج کے ترجمان میجر جنرل ایفومی ایکینجے نے بتایا کہ طیارہ جنوب مغربی کانگو کے کیکویٹ شہر سے راجدھانی کنشاسا واپس آ رہا تھا۔ اسی دوران طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی۔ مقامی افسران کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابی کے بعد طیارہ کینجے علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
کانگو کی فوج نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات اور حالات کا پتا لگایا جا رہا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ تکنیکی خرابی کس وجہ سے پیدا ہوئی۔ کانگو کے شہری ہوا بازی کے ادارے کے بورڈ چیئرمین ٹرائیفان کن کیے مولومبا نے کہا کہ حادثے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کانگو کی فوج ملک کے مشرقی حصے میں کئی باغی گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ان میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم23 باغی گروپ بھی شامل ہے۔ حالیہ مہینوں میں باغیوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ کئی اہم شہروں پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ ایسے میں فوج کے 2 سینئر افسران کی موت کو کانگو کے لیے بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔ فی الحال افسران کی توجہ حادثے کی تحقیقات پر ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ طیارہ حادثے کی اصل وجہ کیا تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
