’لاپتہ افراد کے زندہ ملنے کی امید انتہائی کم‘، نیپال-تبت سیلاب کے بعد اہل خانہ کے لیے ایشا فاؤنڈیشن کی جذباتی اپڈیٹ
ایشا فاؤنڈیشن نے بتایا کہ گیروںگ پورٹ میں واقع امیگریشن آفس کا پورا احاطہ سیلاب میں بہہ گیا ہے۔ اب تک امیگریشن آفس کے علاقے سے کسی بھی شخص کے زندہ ملنے کے آثار نہیں ملے ہیں۔

نیپال-تبت سرحدی علاقے میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے ایشا فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک جذباتی اور تفصیلی اپڈیٹ جاری کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ گیروںگ پورٹ علاقے میں چینی حکام کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے لیکن اب تک سامنے آئے حقائق اور زمینی اطلاعات کی بنیاد پر زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزا اشارے نہیں ملے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ایشا فاؤنڈیشن نے اپنے پیغام میں کہا کہ اپڈیٹ شیئر کرنے میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ وہ اہل خانہ تک صرف تصدیق شدہ اور قابل اعتماد معلومات ہی پہنچانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ٹیم نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیں اور موقع پر موجود رابطوں کے ذریعے ان کی تصدیق کی۔
ایشا فاؤنڈیشن کے مطابق گیروںگ پورٹ پر چینی انتظامیہ کی جانب سے بچاؤ کارکنوں کو آلات کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے اور تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ تاہم 28 اگست کو دوسری مرتبہ سیلاب آنے کے خطرے کے باعث اس آپریشن کو کچھ وقت کے لیے روکنا پڑا تھا، جسے بعد میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع کیا گیا۔ ایشا فاؤنڈیشن نے بتایا کہ گیروںگ پورٹ میں واقع امیگریشن آفس کا پورا احاطہ سیلاب میں بہہ گیا ہے۔ عوامی طور پر دستیاب تصاویر، ویڈیوز، سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی لوگوں سے حاصل ہونے والی معلومات سے اس بھاری تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ادارے نے کہا کہ ابھی تک امیگریشن آفس کے علاقے سے کسی بھی شخص کے زندہ ملنے کے آثار نہیں ملے ہیں۔
ایشا فاؤنڈیشن کی ٹیم سرحد کے دونوں جانب تعینات ہے۔ چین کی جانب موجود ٹیم گیروںگ سائٹ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور اس مقام پر موجود ہے، جہاں تک جانے کی اجازت ہے۔ یہ ٹیم امدادی اور بچاؤ کاموں میں مصروف حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ نیپال کی جانب رابطہ کاری کی ٹیم کاٹھمنڈو میں موجود ہے، کیونکہ متاثرہ علاقے تک رسائی فی الحال محدود ہے۔ نیپال میں سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث امدادی کاموں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایشا فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اس کی ٹیم ہندوستان کے وزیر اعظم کے دفتر، کاٹھمنڈو اور بیجنگ میں واقع ہندوستانی سفارت خانوں، نیپالی فوج کی تلاش اور بچاؤ ٹیم، نیپال ٹورازم پولیس اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور تال میل برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لاپتہ افراد کی معلومات بھی متعلقہ بچاؤ ایجنسیوں کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
ادارے نے کہا کہ بچائے گئے افراد کی فہرستوں کا مسلسل موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک چین کی جانب سے جاری کسی بھی سرکاری فہرست میں ان کے گروپ کے کسی رکن کا نام نہیں ملا ہے۔ نیپال حکومت کی جانب سے جاری بچاؤ کی فہرستوں میں بھی گروپ کے کسی رکن کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ایشا فاؤنڈیشن نے بتایا کہ مقامی ماہرین اور عینی شاہدین سے رضاکاروں کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق گیروںگ پورٹ کی وادی میں 45 سے 50 فٹ تک ملبہ اور گاد جمع ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیلاب کی رفتار اتنی تیز تھی کہ کسی کے زندہ بچنے کا امکان انتہائی کم ہے۔ بتایا گیا کہ پانی اور ملبے کا یہ سیلاب تقریباً 150 فٹ تک بلند ہوا اور اس نے عمارتوں کے پورے احاطے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ایشا فاؤنڈیشن نے کہا کہ وہ جائے وقوعہ سے کسی مثبت خبر کی امید کر رہے تھے لیکن اب تک جو بھی حقائق سامنے آئے ہیں وہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ علاقے تک رسائی محدود ہونے کے باعث ہر اطلاع کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جو معلومات شیئر کی گئی ہیں وہ حکام، میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع پر مبنی ہیں۔ اپنے پیغام کے آخر میں ایشا فاؤنڈیشن نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابل تصور سانحہ ہے جس نے پوری برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ادارے نے یقین دلایا کہ جیسے ہی کوئی نئی اور تصدیق شدہ معلومات ملے گی اسے فوری طور پر شیئر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی خاندانوں کو ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرنے کا یقین بھی دلایا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
