کیا ہندوستان نے روس سے تیل خریدنا بند کر دیا؟
روس کا یہ بیان، مودی اور ٹرمپ کے درمیان حالیہ فون پر بات چیت کے بعد آیا ہے۔ جس کے بعد، دونوں فریقوں نے اعلان کیا کہ ہندوستانی اشیاء پر امریکی محصولات کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا جائے گا۔

روس نے امریکہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی خریداری روکنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ روس نے واضح کیا کہ اسے یقین کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہندوستان نے تیل کی درآمد پر اپنا موقف تبدیل کر دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ ہندوستان کی طرف سے روسی ہائیڈرو کاربن کی خریداری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دعوؤں میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے آزاد ممالک پر حکم چلانے کا حق غصب کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی درآمد روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری روکنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس سے قبل فروری میں ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان اب روس سے خام تیل نہیں خریدے گا۔
یہ بیانات وزیر اعظم نریندر مودی اور ٹرمپ کے درمیان حالیہ فون پر بات چیت کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد، دونوں فریقوں نے اعلان کیا کہ ہندوستانی اشیاء پر امریکی محصولات کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا جائے گا۔ اس کمی میں وہ اضافی 25 فیصد ٹیرف بھی شامل ہے جو ٹرمپ نے گزشتہ سال اگست میں ہندوستان سے روسی تیل کی خریداری پر عائد کیا تھا۔
اب تک ہندوستان نے امریکہ کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے کہ اس نے روسی خام تیل کی درآمد روکنے کا عہد کیا ہے۔ ہندوستان نے یقینی طور پر کہا ہے کہ توانائی کی خریداری سے متعلق فیصلوں میں قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے گا۔
روس پہلے بھی امریکہ پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ ہندوستان اور دیگر ممالک کو روسی تیل خریدنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ امریکہ ٹیرف اور پابندیاں جیسے حربے استعمال کر رہا ہے۔ زاخارووا نے یوکرین کے یورپی اتحادیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن معاہدے کی طرف بڑھنے میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔