عالمی اقتصادی خطرات برقرار، آئی ایم ایف نے خبردار کیا

انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی (آئی ایم ایف سی) نے کہا کہ عالمی معیشت نے حالیہ جھٹکوں کا توقع سے بہتر مقابلہ کیا ہے، لیکن یہ سمجھنا صحیح نہیں ہوگا کہ آئندہ بھی صورتحال ایسی ہی رہے گی۔

<div class="paragraphs"><p>آئی ایم ایف / آئی اے این ایس</p></div>
i

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پالیسی ساز کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو جنگوں، تجارتی کشیدگی، توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے قرض سے وابستہ خطرات کا سامنا ہے، حالاںکہ اقتصادی ترقی توقعات سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ بینکاک میں اپنی 54 ویں میٹنگ کے بعد ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فنانشل کمیٹی (آئی ایم ایف سی) نے کہا کہ اقتصادی استحکام کو یقینی نہیں سمجھا جا سکتا، کیوںکہ حکومتیں بیک وقت کئی جغرافیائی سیاسی اور مالیاتی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ عالمی معیشت نے حالیہ جھٹکوں کا توقع سے بہتر مقابلہ کیا ہے، لیکن یہ سمجھنا صحیح نہیں ہوگا کہ آئندہ بھی صورتحال ایسی ہی رہے گی۔ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان کی صدارت میں جاری کیے گئے اس بیان میں جاری تنازعات کے اقتصادی نتائج، بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور کمزور ممالک پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انسانی اور اقتصادی نقصان ہو رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب ممالک پر پڑ رہا ہے۔


کمیٹی نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بین الاقوامی تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہے، اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے اور توانائی و غذائی عدم تحفظ کی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی کی سپلائی، بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں اور طویل عرصے سے جاری تنازعات کے مالیاتی نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ مسلسل جھٹکوں کے باوجود عالمی معیشت میں بڑی حد تک استحکام برقرار رہا ہے، لیکن آنے والی رکاوٹوں کا سامنا کرنے کی حکومتوں کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے۔

کمیٹی نے مالیاتی استحکام کے لیے چند مزید خطرات کی نشاندہی کی، جن میں سوورین بانڈ ییلڈ (سرکاری بانڈ پر ملنے والا منافع) میں اضافہ، بھاری عوامی قرض اور ری فنانسنگ (قرض ادائیگی کے لیے نیا قرض لینے) کا دباؤ شامل ہیں۔ یہ حالات ان ممالک کے لیے خاص طور پر مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، جنہیں بھاری قرض لینے کی ضرورت ہے، یا جن کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی محدود ہے۔ کمیٹی نے عالمی معیشت پر جدید انٹیلی جنس ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس نے تسلیم کیا کہ تیزی سے ہونے والی تکنیکی پیش رفت سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دے رہی ہے اور اس سے پیداواری صلاحیت میں بہتری آسکتی ہے۔ حالانکہ کمیٹی نے خبردار کیا کہ ان ٹیکنالوجیز کے اقتصادی اور مالیاتی اثرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجودہ کمزوریوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔


آئی ایم ایف سی نے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں، قابل اعتماد مالیاتی ڈھانچے اور حکومتوں و بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نے ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنی مالیاتی کمزوریوں کو دور کریں، ساتھ ہی کمزور طبقات کا تحفظ کریں اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری سرمایہ کاری کو برقرار رکھیں۔ کمیٹی نے کہا کہ پالیسیوں پر اعتماد برقرار رکھنے اور مہنگائی سے متعلق توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے مرکزی بینکوں کی خودمختاری انتہائی ضروری ہے۔ بیان میں ’بینکاک بلیو پرنٹ‘ کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل فنانس کو محفوظ بنانا، سائبر سیکورٹی کو مضبوط کرنا اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔

کمیٹی نے عالمی سطح پر موجود عدم توازن، تجارتی کشیدگی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے والی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔ بیان میں محفوظ اور مستحکم توانائی کی سپلائی کی ضرورت اور عالمی اقتصادی استحکام کے لیے آمد و رفت کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے خود مختار قرضوں کی تنظیم نو کے نظام میں اصلاحات لانے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا، خصوصاً کم آمدنی والے ممالک اور کمزور متوسط آمدنی والی معیشتوں کے لیے۔ اس نے قرض لینے والوں اور قرض دینے والوں سے زیادہ شفافیت برتنے اور قرضوں کی تنظیم نو کے انتظامات کو مزید قابل پیش گوئی بنانے کی اپیل کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔