’ترقی پذیر ممالک کو زیادہ نقصان ہوگا‘، آبنائے ہرمز سے مال بردار جہازوں کی آمد و رفت کم ہونے پر آئی ایم ایف سربراہ کا بیان

’آبنائے ہرمز‘ سے بدھ کے روز صرف 6 کموڈیٹی جہاز گزرے۔ یہ تعداد ایک روز قبل گزرنے والے 11 جہازوں کے مقابلے کافی کم ہے اور گزشتہ 10 دنوں میں روزانہ تقریباً 13 جہازوں کی اوسط سے بھی نیچے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان اسٹریٹجک طور پر اہم آبنائے ہرمز سے بدھ کے روز صرف 6 کموڈیٹی جہاز گزرے۔ یہ تعداد ایک روز قبل گزرنے والے 11 جہازوں کے مقابلے کافی کم ہے اور گزشتہ 10 دنوں میں روزانہ تقریباً 13 جہازوں کی اوسط سے بھی نیچے ہے۔ اس دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے اس صورتحال سے ہونے والے نقصانات کی جانب دنیا کی توجہ دلائی ہے۔ شپ ٹریکنگ کمپنی ’کیپلر‘ کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ’رائٹرز‘ نے بتایا کہ بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 6 جہازوں میں 2 بہت بڑے گیس کیریئر، 2 لانگ رینج ٹینکر، ایک سپرامیکس ٹینکر اور ایک پینامیکس ٹینکر شامل تھے۔

جہازوں کی آمد و رفت میں یہ کمی ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی نے خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور ان میں تبدیلی ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ جہاز سفر کے دوران اپنے ٹرانسپونڈر بند کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حقیقی آمد و رفت فوری طور پر شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار میں درج نہیں ہو پاتی۔


واضح رہے کہ جہازوں کی آمد و رفت میں مسلسل کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے سلامتی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں کئی جہازوں کو اپنی بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا ہے، جس سے تیل اور گیس کی تجارت کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ہرمز آبنائے کی بندش سے دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی قرض سے متعلق پیش رفت خطرے میں پڑ رہی ہے۔

کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ مجموعی قرض کی بڑھتی ہوئی سطح کے ساتھ ساتھ، اب بھی بند پڑے اس آبی راستے کی وجہ سے مہنگائی کا دباؤ بھی بانڈ ییلڈ کو اوپر لے جا رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولینا میں جی-20 اجلاس کے دوران خبر رساں ایجنسی’رائٹرز‘کو بتایا کہ ’’یہ صرف کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں قرض کی بلند سطح اور مسلسل برقرار رہنے والی مہنگائی، کم آمدنی والے ممالک، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں سمیت سب کے لیے قرض کی ادائیگی کی لاگت کو بڑھا سکتی ہے۔‘‘