فرانس: انسانوں میں پھیلا خطرناک ’شمونڈا‘ وائرس، ایک کی موت

’شمونڈا‘ ایسا وائرس ہے جو کیڑوں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ گایوں میں اس وائرس کے انفیکشن کے زیادہ تر معاملات سامنے آئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>وائرس کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i

فرانس میں جانوروں کو متاثر کرنے ولا ’شمونڈا‘ وائرس کا پہلی بار انسان میں پتہ چلا ہے۔ متاثرہ مریض کی بعد میں موت ہو گئی۔ فرانسیسی محکمہ صحت کے افسران نے یہ اطلاع دی ہے۔ حالانکہ افسران کا کہنا ہے کہ فی الحال اس وائرس سے عام لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’شمونڈا‘ ایسا وائرس ہے جو کیڑوں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر جانوروں کو متاثر کرتا ہے۔ گایوں میں اس وائرس کے انفیکشن کے زیادہ تر معاملات سامنے آئے ہیں۔ اسے پھیلانے میں چھوٹے چھوٹے کاٹنے والے کیڑے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فرانس کی حکومت کے مطابق اب تک مانا جاتا تھا کہ یہ وائرس انسانوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔

فرانسیسی محکمہ صحت کے افسران کا ابتدائی اندازہ ہے کہ مریض مشرقی فرانس میں متاثر ہوا ہوگا۔ اس علاقے میں 2026 کی بہار اور گرمیوں کے دوران جانوروں میں یہ وائرس پھیل رہا تھا۔ حالانکہ مریض کو انفیکشن کیسے ہوا؟ اس کے متعلق تفصیلی معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس وائرس کی شناخت پہلی بار 1960 کی دہائی میں افریقی ملک نائجیریا میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد افریقہ اور جاپان میں جانوروں میں اس کے معاملے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے۔ رواں سال یہ وائرس یورپ کے کئی ممالک میں بھی پھیل رہا ہے۔


فرانس کے ساحل سے تقریباً 50 کلومیٹر دور جرسی جزیرے پر بھی ’شمونڈا‘ جیسے وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ وہاں اگست سے ہی انفیکشن کی اطلاع تھی، لیکن برطانیہ کی ’اینیمل اینڈ پلانڈ ہیلتھ ایجنسی‘ (اے پی ایچ اے) نے اس کی اطلاع گزشتہ ہفتہ دی۔ ایجنسی نے کہا کہ اس برطانوی جزیرے کے پاس اس وائرس کی موجودگی تصدیق ہوتی ہے۔ حالانکہ برطانیہ میں اب تک انفیکشن کا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔

آئرلینڈ کے جنوبی حصے میں 2 ڈیری فارموں کی 3 گایوں میں بھی یہ وائرس ملا۔ ایک پرائیویٹ لیب میں جانچ کے دوران پہلے ’شمالینبرگ‘ وائرس کا شبہ تھا، لیکن اس کی جانچ رپورٹ نے اس کی تصیق نہیں کی۔ بعد میں ’شمونڈا‘ جیسا وائرس پایا گیا۔ آئرلینڈ کا محکمہ زراعت معاملے کی جانچ کے لیے لیب کے رابطے میں ہے۔ محکمہ گرمیوں سے یورپ میں اس کے پھیلاؤ پر نظر رکھ رہا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ ’شمونڈا‘ وائرس سے حاملہ گایوں کے بچھڑے کی موت ہو سکتی ہے۔ فی الحال اس کی کوئی ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔ کسانوں کو تشویش ہونے پر جانوروں کے ڈاکٹروں سے مشورہ لینے کو کہا گیا ہے۔ رواں سال گرمیوں میں نیدرلینڈ کی گایوں میں بھی ’شمونڈا‘ جیسا نیا ’آرتھوبونیا‘ وائرس ملا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔