روسی لیب حادثہ کے سبب 2 قسم کے وائرس فعال، 2 افراد کووڈ-19 اور 2 دیگر رائنو وائرس پازیٹو

محکمۂ صحت نے کہا کہ کوئی اور انفیکشن نہیں ملا، جو کہ راحت کی بات ہے، لیکن نگرانی رکھنی ہوگی۔ لوگوں کو ماسک، ہاتھ دھونے اور بھیڑ سے بچنے، جیسی معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

<div class="paragraphs"><p>وائرس کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i

روس کے سائبیریائی علاقے ایرکوتسک میں ایک خاتون کی نامعلوم نمونیا سے موت کے بعد ان کے رابطے میں آنے والے لوگوں میں 2 الگ الگ وائرس فعال پائے گئے ہیں۔ روس کے محکمۂ صحت (روسپوتریب نادزور) نے تصدیق کی ہے کہ لیباریٹری جانچ میں 2 افراد میں کووڈ-19 اور 2 میں رائنو وائرس کا انفیکشن پایا گیا۔ کسی دوسرے متعدی مرض کی کوئی علامت نہیں ملی۔ یہ واقعہ سائنسی اور صحت کے ماہرین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ اس میں 2 عام وائرس ایک ساتھ فعال ہیں۔ ایرکوتسک علاقے میں ایک خاتون کو ایٹولوجی کا نمونیا ہو گیا تھا۔ یعنی ڈاکٹروں کو ابتدا میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نمونیا کی اصل وجہ کیا ہے۔ خاتون کی حالت بگڑتی گئی اور ان کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد صحت کے حکام نے ان کے اہل خانہ، پڑوسیوں اور دیگر رابطے میں آنے والے افراد کی جانچ شروع کی۔

لیب ٹیسٹ میں واضح پتہ چلا ہے کہ 4 افراد کو انفیکشن ہے۔ 2 کووڈ پازیٹو اور 2 افراد رائنو وائرس پازیٹو ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان چاروں میں دیگر کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ معلومات اہم ہے، کیوں کہ نامعلوم نمونیا کے معاملوں میں اکثر کئی امکانات سامنے آتے ہیں، لیکن یہاں صرف 2 وائرس فعال ہیں۔ اس معاملے کو لیب حادثے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ آفیشیل بیان میں براہ راست لیب حادثے کا ذکر نہیں ہے، لیکن مقامی سطح پر یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی لیبارٹری سے متعلق غلطی تو نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیل گئے۔ روس میں کوویڈ وبا کے بعد سے کئی لیب کام کر رہے ہیں۔ رائنو وائرس بھی عام نزلہ و زکام کی وجہ بنتا ہے۔ دونوں وائرس ایک ساتھ ملنے کی وجہ سے نظام صحت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔


کووڈ-19 سارس-کوو-2 وائرس سے ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر سانس کی بوندوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس کی علامت میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تھکن، ذائقے اور خوشبو کی حس میں کمی شامل ہیں۔ سنگین صورتوں میں نمونیا، آکسیجن کی کمی اور ملٹی آرگن فیلئر ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس آر این اے پر مبنی ہے۔ اس میں بار بار میوٹیشن ہوتی رہتی ہے۔ ویکسین اور اینٹی وائرل ادویات دستیاب ہیں، لیکن نئی ویریئنٹس سے تحفظ کم ہو سکتا ہے۔ انفیکشن کی مدت عام طور پر 5 سے 14 دن ہوتی ہے۔ رائنو وائرس عام نزلہ زکام کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یہ بھی آر این اے وائرس ہے اور ناک اور گلے کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی علامتیں ہلکی ہوتی ہیں، جن میں ناک بہنا، چھینک آنا، گلے میں خراش اور ہلکا بخار شامل ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بچوں، بزرگوں یا کمزور قوت مدافعت والے افراد میں یہ سانس کی نچلی نالی تک پہنچ کر برونکائٹس یا نمونیا کا سبب بن سکتا ہے۔ رائنو وائرس کی 100 سے زیادہ قسمیں ہیں، اس لیے مکمل طور پر روک تھا مشکل ہے۔ کوئی خاص ویکسین نہیں ہے، صرف علامتوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ دونوں وائرس سانس کے ذریعہ پھیلتے ہیں۔ ایک ہی شخص میں دونوں کا ایک ساتھ ہونا یا اہل خانہ میں الگ الگ ہونا ممکن ہے، کیونکہ ان کی انفیکشن کی صلاحیت اچھی ہے۔ کووڈ زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، جبکہ رائنو وائرس عام طور پر ہلکا رہتا ہے، لیکن دونوں مل کر سانس کی تکلیف میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایرکوتسک جیسے سرد موسم میں یہ وائرس تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ نامعلوم نمونیا کے معاملوں میں ہمیشہ لیب جانچ ضروری ہے، تاکہ درست تشخیص کی جا سکے۔


محکمۂ صحت نے کہا کہ کوئی اور انفیکشن نہیں ملا، جس کی وجہ سے راحت ہے، لیکن نگرانی رکھنی ہوگی۔ لوگوں کو ماسک، ہاتھ دھونے اور بھیڑ سے بچنے، جیسی معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے۔ یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وائرس کسی بھی وقت فعال ہوسکتے ہیں۔ لیب سیفٹی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل در آمد ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملے سامنے نہ آئیں۔ مقامی انتظامیہ کو رابطوں کی نگرانی جاری رکھنی چاہیے اور اگر ضروری ہو تو قرنطینہ یا علاج کا بندوبست کرنا چاہیے۔ عام شہری اپنی علامت پر توجہ دیں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ مجموعی طور پر ایرکوتسک کا یہ حادثہ 2 عام وائرس کے ایک ساتھ فعال ہونے کی مثال ہے۔ وقت پر جانچ اور درست جانکاری سے بڑے پیمانے پر انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔