ہندوستانی خاندان کے چار افراد کی کینیڈا۔امریکہ سرحد پر سردی میں جم کر موت ہو گئی

چار افراد کے خاندان نے 19 جنوری کو شدید سردی کے موسم میں پیدل سرحد پار کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کی موت ہو گئی تھی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کینیڈا-امریکہ کی سرحد پر مینی ٹوبا کے قریب 19 جنوری کو مردہ پائے گئے ایک ہندوستانی خاندان کے چار افراد کی موت کی وجوہات کی تفتیش کی بابت ہندوستانی ہائی کمیشن اور ٹورنٹو میں واقع قونصل جنرل مقامی انتظامیہ اور متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

واضح رہے کینیڈا کی حکومت نے ان مرنے والوں کی شناخت بتا دی ہے اور یہ چارو ایک ہی خاندان کے تھے اور ان کا تعلق پٹیل خاندان سے تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ چار افراد کے خاندان نے 19 جنوری کو شدید سردی کے موسم میں پیدل سرحد پار کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کی موت ہو گئی تھی۔


حکام نے کہا کہ وہ 18 افراد کے گروپ سے الگ ہو گئے اور غالباً برفانی طوفان میں پھنس گئے۔رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ خاندان 12 جنوری کو کینیڈا پہنچا، پہلے ٹورنٹو پہنچا، اور پھر 18 جنوری کے قریب ایمرسن، مینی ٹوبا کا سفر کیا۔

ایک مجرمانہ آپریشنز افسر، روب ہل نے کہا کہ سرحد کے قریب کوئی گاڑی نہیں چھوڑی گئی، جس سے یہ تجویز کیا گیا کہ کسی نے انہیں اتار کر چھوڑ دیا ہے۔


ادھروزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے با ضابطہ بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے لوگ کینیڈا اور امریکہ کے مشن مینی ٹوبا میں اس واقعہ پر با ضابطہ طور پر سرگرم ہیں۔ کینیڈین حکومت نے تصدیق کی ہے کہ چاروں افراد ہندوستانی شہری تھے اور ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ ان کے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع کر دی گئی ہے۔

مسٹر باغچی نے کہا کہ کینیڈا کی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ چاروں افراد کی موت مسلسل باہر کھلے میں رہنے کی وجہ سے ہوئی۔ اوٹاوا میں ہندوستانی ہائی کمیشن اور ٹورنٹو میں ہندوستان کا قونصلیٹ جنرل تحقیقات کے تمام پہلوؤں پر حکومت کینیڈا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور خاندان کے افراد کو قونصلر خدمات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔


ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے تسلیم کیا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے جہاز سے یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کے ذریعے اغوا کیے گئے سات ہندوستانی ملاح محفوظ اور صحت مند ہیں۔ حکومت ہند مختلف ذرائع سے اپنے ملاحوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں معلومات لے رہی ہے اور حوثی عسکریت پسندوں کو پیغام دے رہی ہے کہ ملاحوں کو جلد رہا کر دیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔