’اجتماعی تباہی کے اسلحے ہی سیکورٹی کی پختہ گارنٹی‘، سابق روسی صدر میدویدیو کے بیان سے عالمی سیاست میں ہلچل
دمتری میدویدیو نے نیوکلیائی اسلحوں کے پھیلاؤ پر اپنی مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ دنیا کے نظام میں جو شگاف پڑا ہے، وہ کئی ممالک کو خود کی حفاظت کے سب سے اثردار طریقے تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

روس کے سابق صدر دمتری میدویدیو کے ایک بیان نے عالمی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کا یہ بیان لوگوں کی فکر میں اضافہ کر رہا ہے کہ ’’اجتماعی تباہی کے اسلحے ہی قومی سیکورٹی کی واحد پختہ گارنٹی ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے عدم استحکام کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے زیادہ سے زیادہ ممالک نیوکلیائی اسلحوں کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کریں گے۔
مشہور روسی اخبار ’کومرسینٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میدویدیو نے یہ بیان دیا ہے۔ روسی سیکورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین میدویدیو نے نیوکلیائی اسلحوں کے پھیلاؤ پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ’’دنیا کے نظام میں جو شگاف پڑا ہے، وہ کئی ممالک کو خود کی سیکورٹی کے سب سے اثردار طریقے تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کچھ ممالک طے کریں گے کہ سب سے اچھا متبادل نیوکلیائی اسلحہ حاصل کرنا ہے، کئی ممالک کے پاس ملٹری نیوکلیئر پروگرام چلانے کی تکنیکی صلاحیت ہے، اور کچھ اس سمت میں تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ شاید انسانیت کے مفاد میں نہ ہو، لیکن سچ کہیں تو انسانیت نے ابھی تک خود کی حفاظت اور خود مختاری کی گارنٹی دینے کا کوئی دوسرا طریقہ تلاش نہیں کیا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ 1968 کی ’نان-پرولفریشن ٹریٹی‘ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے 5 مستقل اراکین کو ہی نیوکلیائی اسلحہ والا ملک مانتی ہے۔ اس پر دستخط ہونے کے بعد سے ہندوستان، پاکستان اور جنوبی کوریا نے نیوکلیائی اسلحے بنا لیے ہیں، جبکہ مانا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس بھی نیوکلیائی صلاحیت ہے۔ جنوبی افریقہ واحد ایسا ملک ہے جس نے ایک کامیاب ملٹری نیوکلیائی پروگرام کو ختم کیا ہے۔
اس درمیان گزشتہ کچھ دہائیوں میں کئی ممالک پر نیوکلیائی اسلحے بنانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد ہوا ہے۔ خصوصاً ایران ان ممالک میں شامل ہے۔ اس ملک پر گزشتہ سال اسرائیل اور امریکہ نے ایسی کوششوں کو روکنے کے مقصد سے حملہ کیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے ایران کے نیوکلیائی سنٹرس پر بی-2 بمبار طیاروں سے بم گرائے تھے۔ حالانکہ تہران اس طرح کے الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ یورینیم انرچمنٹ ضرور کرتا ہے، لیکن اس کا مقصد نیوکلیائی بم بنانا نہیں ہے۔
بہرحال، میدویدیو کا انٹرویو امریکہ کے ساتھ ’نیو اسٹارٹ نیوکلیائی اسلحہ‘ کم کرنے والی ٹریٹی کے جلد ختم ہونے پر مرکوز تھا۔ اس معاہدہ پر ان کے صدر رہتے ہوئے دستخط کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ روس نے اپنے نیوکلیائی اسلحوں کی وجہ سے اپنی خود مختاری بنائے رکھی ہے۔ موجودہ چیلنجز کے جواب میں روس نئے ڈیلیوری سسٹم تیار کر رہا ہے۔ میدویدیو کا کہنا ہے کہ یوروپی اور بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکی لگاتار ہمیں سخت جواب دینے کے لیے اُکسا رہے ہیں، اور وہ اکسانے والی حرکتیں جاری ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کے ایک ملٹری پلانٹ کے خلاف اپنی نئی اوریشنک میڈیم رینج میزائل کا استعمال کیا، جس میں نیوکلیائی ورژن بھی شامل ہو سکتا تھا۔
میدویدیو نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیوکلیائی اسلحے جنگ کا خطرہ بڑھاتے ضرور ہیں، لیکن وہ دوسرے ممالک کے خلاف ’خطرناک ارادہ رکھنے والے کسی بھی شخص کے دماغ میں تازہ ہوا ڈال کر‘ استحکام کو بھی راستہ دیتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کے گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کو بے حد خرناک بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ میزائل ڈیفنس سسٹم روس کے لیے بہت اکساوے والا ہے، اور اس سے اسٹریٹجک بیلنس بگڑ سکتا ہے۔