فلائی دبئی طیارہ حادثہ: ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی طرح نشانے پر تھی مشہور اسرائیلی عمارت! تفتیش میں انکشاف

اٹلی کی ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ کی تفتیش میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جب مسافروں نے اس کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا تو اس نے طیارے کو سعودی عرب کے صحرائی علاقے میں گرانے کی کوشش کی۔

<div class="paragraphs"><p>فلائی دبئی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

دبئی سے تل ابیب جا رہی ’فلائی دبئی‘ فلائٹ ’ایف زیڈ 1073‘ کاک پٹ حملہ کی تفتیش میں اب کچھ سنگین باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ تفتیش سے وابستہ ذرائع کے مطابق عمان کے شریک پائلٹ ہمام الحمامی پر صرف فلائٹ ہائی جیک کرنے کا ہی الزام نہیں ہے، بلکہ خدشہ یہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ وہ 9/11 کی طرز پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ تفتیش میں سب سے سنسنی خیز دعویٰ یہی سامنے آیا ہے کہ ہمام کا مبینہ ہدف طیارے کو صرف کریش کرانا نہیں تھا۔ ایک سینئر اماراتی ذرائع کے مطابق اس کا متوقع نشانہ تل ابیب کی مشہور عمارت ازریلی ٹاورز ہو سکتی تھی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کی حکمت عملی آخری لمحے تک طیارے کو معمول کے مطابق دکھانے کی تھی، تاکہ ایئر ٹریفک کنٹرول یا سیکورٹی ایجنسیوں کو شک نہ ہو۔ فی الحال یہ سب دعوے ہیں، عدالت میں حقائق ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

اٹلی کی ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ کی تفتیش میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جب مسافروں نے اس کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا تو اس نے طیارے کو سعودی عرب کے صحرائی علاقے میں گرانے کی کوشش کی۔ حالانکہ ان باتوں کی فی الحال تفتیش کی جا رہی ہے اور سبھی تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہمام کئی بار اسرائیل اور خصوصاً گرین ایئرپورٹ جا چکا تھا۔ تفتیش کاروں کی نظریں ہمام کے اسفار پر بھی ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس نے جون کے مہینے میں حملے کے لیے اسرائیل جا کر اہم اطلاعات جمع کی تھیں اور جولائی میں حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا، لیکن آخری وقت میں یہ ارادہ ملتوی کر دیا۔ اس کی وجہ عملے کے ایک رکن سے دوستی بتائی گئی ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے پوچھ تاچھ کے دوران کہا ہے کہ اس نے تل ابیب جانے والی فلائٹ کی تلاش کی اور اسی وجہ سے فلائی دبئی کا انتخاب کیا۔ فی الحال اسرائیل ان سبھی دعوے کی تصدیق کرنے میں مصروف ہے۔


معاملہ صرف اسرائیل اور یو اے ای تک محدود نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے انسداد دہشت گردی حکام بھی ملبورن میں ہمام کے ذریعہ برسوں گزارے گئے دنوں کی تفتیش کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکام یہ پتہ لگانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہمام کا کسی متشدد نیٹورک سے رابطہ تھا۔ تفتیش کار ہمام کے پرانے تعلقات، سفر اور آن لائن سرگرمیوں کی بھی جانچ کر رہے ہیں، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اس کا مبینہ منصوبہ اچانک بنا تھا یا کافی دنوں سے تیاری چل رہی تھی۔ واردات کی تفتیش میں ایک اور انتہائی سنگین پہلو سامنے آیا ہے۔ کوریئرے ڈیلا سیرا کے مطابق بوئنگ 737 کے 2 کپتانوں نے واردات کے دوران بنائی گئی ویڈیو کا تجزیہ کیا اور طیارے کی ایمرجنسی لائٹس اچانک جلنے پر توجہ دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طیارے کی مرکزی برقی سپلائی منقطع ہو جائے اور وہ بیٹری پاور پر آجائے تو ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ انجن یا ان کے جنریٹر بند ہونے کی صورت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہمام نے انجن کے فیول کنٹرول سوئچ کو ’رن‘ سے ’کٹ آف‘ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ اس نے طیارے کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پروپلشن سسٹم کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔

کاک پٹ میں حالات بگڑنے کے بعد طیارے سے بھیجے گئے ایمرجنسی کوڈ بھی کہانی کی اہم کڑی ہیں۔ پہلے طیارے نے 7700 کوڈ نشر کیا۔ جس کا مطلب عام ہنگامی صورتحال ہوتا ہے۔ اس وقت ایئر ٹریفک کنٹرول کو پوری صورتحال سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ تقریباً 7 منٹ بعد کوڈ تبدیل کر کے 7500 کر دیا گیا، جو ممکنہ ہائی جیکنگ کی علامت ہے۔ تب تک طیارہ اردن کی فضائی حدود کے قریب پہنچ رہا تھا۔ اسے واپس موڑنے کی ہدایت دی گئی اور بعد میں سعودی عرب کے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کے لیے بھیج دیا گیا۔ اسی دوران مسافروں نے ہمام کو قابو کر لیا۔ ایک مسافر نے طیارے کو مستحکم رکھنے میں مدد کی اور پھر طیارے میں موجود ڈیوٹی سے باہر 2 پائلٹوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔ ہمام زیر حراست ہے اور اس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ اسرائیل بھی تفتیش کا دائرہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس میں فلائٹ اٹینڈنٹس سے معلومات حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں فی الحال دعوے کیے جا رہے ہیں، حقیقی معاملہ حتمی طور پر جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی صاف ہو سکے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔