امریکی انتخابات میں ایلون مسک نے پانی کی طرح بہایا پیسہ، ٹرمپ کو بچانے کے لیے 3500 کروڑ روپے کیے خرچ

’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق مسک نے جولائی سے یہ عطیات دیے ہیں۔ ان عطیات سے ان ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کو مدد ملی ہے، جہاں ڈیموکریٹک پارٹی سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایلون مسک/ ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i

مشہور تاجر ایلون مسک نے اس سال ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے اب تک تقریباً 3500 کروڑ روپے (366 ملین ڈالر) خرچ کیے ہیں۔ اس میں سے 2660 کروڑ روپے (276 ملین ڈالر) انہوں نے جولائی کے بعد سے ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے خرچ کیے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے امریکی ہاؤس اور سینیٹ پر دوبارہ قبضہ کرنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ انتخابی مہم کے مالیاتی ریکارڈ کے مطابق اتنی بڑی رقم فراہم کرنے کے باعث مسک اس سال دنیا میں سب سے زیادہ چندہ دینے والے شخص بن سکتے ہیں۔ مسک کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، کیونکہ امریکن ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں ڈیموکریٹس ان کے سرکاری معاہدوں (خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سی ای او کی حیثیت سے) اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘ کو چلانے میں ان کے کردار کی تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق مسک نے جولائی سے یہ عطیات دیے ہیں۔ ان عطیات سے ان ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کو مدد ملی ہے، جہاں ڈیموکریٹک پارٹی سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ 2025-26  کے انتخابی دور میں مسک نے ریپبلکن پارٹی کو 366 ملین ڈالر دیے۔ یہ رقم 2024 میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے دیے گئے 290  ملین ڈالر کے عطیے سے کہیں زیادہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسک نے ریپبلکن پارٹی کے ’سینیٹ لیڈرشپ فنڈ‘ کو 158 ملین ڈالر عطیہ کیے۔ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی عطیہ تھا۔ اس کے علاوہ مسک نے ’امریکہ پی اے سی‘ کو 76 ملین امریکی ڈالر عطیہ کیے، جو 3 درجن سے زیادہ نشستوں پر ریپبلکن سینیٹ امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلا رہا ہے۔


ٹرمپ کی حمایت کے لیے مسک نے 2024 میں ’امریکہ پی اے سی‘ نامی گروپ بنایا تھا۔ اس گروپ کے ترجمان اینڈریو رومیو کا کہنا ہے کہ ان بڑی سرمایہ کاریوں کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہی ہے، جس کی وجہ سے تاریخ بدلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ وہیں مسک کی بات کریں تو وہ ایک بہت بڑی کاروباری سلطنت چلاتے ہیں اور انہیں سرکاری معاہدوں سے فائدہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس میں بھی ان کا کافی اثر و رسوخ مانا جاتا ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں ٹرمپ نے سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے مسک کو ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (ڈی او جی ای) کا انچارج بنایا تھا، لیکن چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان سنگین اختلافات پیدا ہوگئے۔ حالانکہ بعد میں مسک دوبارہ ٹرمپ کے خیمے میں لوٹ آئے اور ان کے قریبی ساتھی بنے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے مسک کو باوقار ’نیشنل میڈل آف سائنس‘ سے نوازا۔ اسپیس ایکس کے سربراہ اور 5 دیگر ٹیکنالوجی رہنماؤں کو اعزاز سے نوازنے کی تقریب میں ٹرمپ نے مسک کو ’آج کے دور کا ایڈیسن‘ قرار دیا تھا۔