چین میں 2 گھنٹوں کے اندر 8 بار آئے زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.1 درج

زلزلے کے بعد سیچوان زلزلہ ایجنسی نے ماہرین کی ایک ٹیم متاثرہ علاقے میں روانہ کی ہے، جو مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

زلزلہ، علامتی تصویر یو این آئی
i

چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچوان میں بدھ کے روز بوقت صبح 5.1 شدت کا زلزلہ آنے سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ زلزلے کا مرکز گاؤشیان کاؤنٹی میں تھا اور اس کی گہرائی زمین سے تقریباً 8 کلومیٹر نیچے ریکارڈ کی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز یہاں صرف 2 گھنٹوں کے دوران زلزلہ کے 8 جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چینی زلزلہ نیٹورک سنٹر (سی ای این سی) کے مطابق زلزلہ کا سب سے تیز جھٹکا صبح 6 بج کر 12 منٹ پر آیا۔ اس کے بعد چین کی زلزلہ انتظامیہ نے فوری طور پر لیول-3 ایمرجنسی رسپانس نافذ کر دیا اور راحت رسانی کی کارروائیاں شروع کر دیں۔

زلزلہ ماہرین کے مطابق بدھ کی صبح 4 بجے سے 6 بجے کے درمیان گاؤشیان علاقے میں مجموعی طور پر 8 مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ان میں سب سے تیز جھٹکا 5.1 شدت کا تھا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق زلزلے میں 2 افراد معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ ایک زخمی شخص کا علاج مقامی ہیلتھ سینٹر میں چل رہا ہے، جبکہ دوسرے کو گاؤشیان کاؤنٹی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔


زلزلے کے بعد سیچوان زلزلہ ایجنسی نے ماہرین کی ایک ٹیم متاثرہ علاقے میں روانہ کی ہے، جو مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ چین زلزلہ انتظامیہ کے سربراہ وانگ کن نے حکام کو مسلسل زلزلے کی سرگرمیوں کی نگرانی، خطرات کا جائزہ لینے اور وقتاً فوقتاً صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے سیچوان کی راجدھانی چینگدو تک محسوس کیے گئے۔ اچانک آئے زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں اور کثیر منزلہ عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ انتظامیہ فی الحال پورے علاقے پر نظر رکھ رہی ہے اور آفٹرشاکس کی امکانات کو دیکھتے ہوئے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ شروعاتی اطلاعات کے مطابق حالات قابو میں ہیں، لیکن مسلسل صورت حال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔