ایبولا بحران: ’کمیونٹی ٹرانسمیشن‘ کے باعث 30 لاکھ بچوں کی صحت خطرے میں، یونیسیف نے جاری کیا الرٹ
یونیسیف نے وارننگ دی ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے تقریباً 29.5 لاکھ بچوں اور نوعمروں کی صحت شدید خطرے میں ہے۔ ایبولا کی اس وبا کے لیے ’بونڈی بوگیو اسٹرین‘ کو ذمہ دار مانا جا رہا ہے۔

ایبولا عالمی سطح پر صحت کے لیے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ 15 مئی کو وبا کے باضابطہ اعلان کے بعد اب کیسز کی تعداد بڑھ کر 1048 ہو گئی ہے، جس میں 267 افراد کی اموات بھی شامل ہیں۔ اتوار تک کے اعداد و شمار کے مطابق 371 مریض آئیسولیشن یا اسپتال میں داخل ہیں، جبکہ 112 افراد ٹھیک ہو گئے ہیں۔ شرح اموات مجموعی طور پر 25.5 فیصد ہے۔ ایبولا کی رپورٹس پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں ہر ہفتہ اضافہ ہو رہا ہے، جو کمیونٹی ٹرانسمیشن کا اشارہ ہے۔ ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ اگر عوامی صحت کے اقدامات فوری طور پر نافذ نہ کیے گئے تو انفیکشن کا پھیلاؤ مزید تیز ہو سکتا ہے۔
ایبولا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے بچوں کی زندگیاں بچانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف تنظیم یونیسیف نے بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ یونیسیف نے وارننگ دی ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے تقریباً 29.5 لاکھ بچوں اور نوعمروں کی صحت شدید خطرے میں ہے۔ ایبولا کی اس وبا کے لیے ’بونڈی بوگیو اسٹرین‘ کو ذمہ دار مانا جا رہا ہے۔ اس اسٹرین سے بچاؤ کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا پھر مؤثر علاج نہیں ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق جمعہ کو اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کارکنان نے وارننگ دی تھی کہ کانگو میں بے گھر افراد کے کیمپوں میں زیادہ بھیڑ اور صاف صفائی میں کمی کی وجہ سے ایبولا پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے بتایا کہ 2.70 لاکھ سے زائد افراد (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں) نے صوبہ اتوری کے 60 سے زائد مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔ ان میں سے کئی مقامات پر پانی، صفائی ستھرائی اور صحت کی مناسب سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اتوری کی راجدھانی ’بونیا‘ کے 2 کیمپوں میں کم از کم 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ طبی ٹیمیں فوری طور پر اس بات کی جانچ کر رہی ہیں کہ کیا یہ اموات ایبولا کی وجہ سے ہوئی ہیں؟ اپریل کے بعد سے شہر کے آس پاس قائم کیمپوں میں کم از کم 62 اموات ہو چکی ہیں۔
اس دوران یونیسیف نے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 22 جون کو جاری کردہ ایک بیان میں یونیسف نے خبردار کیا کہ 31 متاثرہ علاقوں میں رہنے والے 18 سال یا اس سے کم عمر کے تقریباً 29.5 لاکھ بچے اور نوعمر شدید خطرے میں ہیں۔ یہ تعداد وہاں کی کل آبادی کا تقریباً 54 فیصد بنتی ہے۔ ان بچوں کو نہ صرف ایبولا وائرس سے خطرہ ہے، بلکہ صحت کی خدمات اور دیگر ضروری سہولیات میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی شدید نقصانات کا سامنا ہے۔
19 جون تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کے کل تصدیق شدہ کیسز میں تقریباً 15 فیصد بچے اور نوعمر ہیں، جبکہ اس بیماری سے ہونے والی تصدیق شدہ اموات میں بچوں کی تعداد 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جن بچوں اور نوعمروں میں ایبولا کی تصدیق ہوتی ہے، ان کی موت کا خطرہ بالغوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ وبا کم عمر افراد پر کہیں زیادہ سنگین اثرات ڈال رہی ہے۔
ایبولا کی وجہ سے پیدا ہونے والے ناموافق حالات میں ہنگامی اقدامات کے لیے یونیسف اگلے 6 ماہ کے لیے ابتدائی طور پر 7.07 کروڑ امریکی ڈالر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس میں سے 2 کروڑ ڈالر کی رقم اب تک دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسیل کہتی ہیں کہ ’’بچے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے متاثرہ علاقوں تک مسلسل رسائی اور مناسب وسائل کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، اگرچہ اس وقت کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
