نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی سے استعفیٰ کا مطالبہ

نیپال اور ہند کے درمیان حال ہی میں تعلقات میں کڑواہٹ پڑوسی حکومت کی اس کرتوت کے بعد سامنے آئی جس میں نیپال نے نیا نقشہ پاس کیا ہے ۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

چین کے ساتھ نزدیکی بڑھانے والے نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی کو اپنی ہی پارٹی کے اندر سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔منگل کو سابق وزیراعظم اور حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کے شریک چیئرمین پشپ کمال دہل اور دیگر رہنماوں نے مسٹر اولی پر مختلف امور کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزم عائد کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

کاٹھمانڈو پوسٹ کے مطابق پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں مسٹر دہل کے ساتھ پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران مادھو نیپال،جھالہ ناتھ کھنال اور بامدیو گوتم وغیرہ نے بھی مسٹر اولی سے عہدہ سے استعفیٰ دینے کامطالبہ زوروشور سے کیا۔این سی پی کے ایگزیکٹو چیئرمین مسٹر دہل’پرچنڈ‘پہلے بھی کھل کر مسٹر اولی کی تنقید کے ساتھ ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرچکے ہیں۔


اس سے قبل اجلاس میں بھی دونوں رہنماؤں کے مابین الزام تراشی کا دور چلا تھا۔ مسٹر پرچنڈ نے پہلے ہی وزیر اعظم کو متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ پارٹی کو توڑ دیں گے۔

ہندوستان کا قریبی دوست نیپال ، پچھلے کچھ دنوں سے چین کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے۔ناراض لیڈران کی مسٹر اولی سے استعفیٰ کا مطالبہ وزیراعظم کے دوروز پہلے کے اس عوامی بیان کے بعد آیا ہے جس میں ان کی حکومت گرانے کے لئے سازش کا الزام عائد کیا تھا۔نیپال اور ہند کے درمیان حال ہی میں تعلقات میں کڑواہٹ پڑوسی حکومت کی اس کرتوت کے بعد سامنے آئی جس میں نیپال نے نیا نقشہ پاس کیا ہے جس میں کالا پو،لیپولیکھ اور لیمپیادھورا کو وہ اپنا حصہ بتا رہا ہے جبکہ ہندوستان کو دعویٰ ہے کی یہ اس کاعلاقہ ہے۔


حال ہی میں ، کمیونسٹ رہنما مدن بھنڈار کی 69 ویں سالگرہ کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام میں ، مسٹر اولی نے کہا تھا کہ اگرچہ انہیں کرسی سے ہٹانے کا کھیل جاری ہے ، لیکن یہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی اراضی کو نیپالی نقشے میں دکھانے والے آئینی ترمیم کے بعد سے ان کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ نیپال کی قومیت کمزور نہیں ہے۔کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ نقشہ چھاپنے کے لئے کسی وزیراعظم کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے سازشیں رچی جا ئیں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔