نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری، اب تک 626 افراد کی موت، حکومت بین الاقوامی مدد لینے پر رضا مند
بدھ کے روز نیپال کے رسووا میں آیا زبردست سیلاب چین کے تبت علاقے سے شروع ہوا تھا۔ یہ سیلاب سرحد پار سے بہنے والی بھوٹے کوشی ندی کے ذریعے آیا اور اس نے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
نیپال میں اچانک آئے سیلاب کی وجہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہفتے کی صبح تک اموات کی تعداد 626 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ مقامی میڈیا نے حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ نیپال کے اخبار ’دی کاٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق ہفتے کی صبح 6 بجے تک پولیس نے چتون میں 233، نول پراسی ایسٹ میں 158، گورکھا میں 48، نول پراسی ویسٹ میں 47، دھاڈنگ میں 45، نواکوٹ میں 41، تنہون میں 31 اور رسوا میں 13 لاشیں برآمد کی تھیں۔ اس دوران ہمالیائی ملک کے متاثرہ اضلاع میں تلاش اور راحت رسانی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے بتایا کہ پولیس لاپتہ افراد کا پتہ لگانے اور سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے مقامی باشندوں اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ بچائے گئے لوگوں کو زیادہ خطرے والے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ تلاش اور راحت رسانی کی ٹیمیں سیلاب کے ملبے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند سڑکوں کو صاف کر رہی ہیں، تاکہ آمدورفت دوبارہ بحال ہو سکے اور امدادی کارروائیوں میں آسانی ہو۔ بدھ کے روز نیپال کے رسوا میں آیا زبردست سیلاب چین کے تبت علاقے سے شروع ہوا تھا۔ یہ سیلاب سرحد پار سے بہنے والی بھوٹے کوشی ندی کے ذریعے آیا اور اس نے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے کنارے آباد رسوا، نواکوٹ، دھاڈنگ، چتون، گورکھا، تنہون، نول پراسی (مشرق) اور نول پراسی (مغرب) اضلاع میں دریا کے کناروں سے لاشیں برآمد کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تلاش اور راحت کی کارروائیاں جاری رہنے کے سبب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
اس دوران نیپال کی حکومت بین الاقوامی تلاش اور راحت رسانی کی ٹیموں سے مدد لینے پر رضامند ہو گئی ہے۔ اس سے قبل بالین شاہ کی حکومت نے یہ کہتے ہوئے مدد لینے سے انکار کر دیا تھا کہ نیپالی امدادی کارکن تلاش کی کارروائی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ دوسرے ممالک کے امدادی کارکنوں کو اجازت نہیں دے گی۔ حالانکہ ’دی کاٹھمنڈو پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایک دن بھی برقرار نہیں رہ سکا، کیونکہ انتظامیہ نے راحت رسانی کی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی مہارت کی صورت میں محدود بین الاقوامی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
نیپال ٹورزم بورڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ افراد میں ہندوستانی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جمعہ کے روز ہندوستان سے امدادی سامان اور 11 رکنی طبی و سرنگ بچاؤ ٹیم کے ساتھ تیسرا طیارہ نیپال پہنچا۔ اس طیارے میں 10 ٹن انسانی امداد کا سامان تھا، جس میں پورٹیبل جنریٹر سیٹ، ڈگنٹی کٹس، کھانے کے پیکٹ اور پانی کو صاف کرنے والی گولیاں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے جمعرات کے روز نیپال کو انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کے لیے امدادی سامان (ایچ اے ڈی آر)، ادویات اور کھانے کے پیکٹوں کی دوسری کھیپ (37.5 ٹن) سونپی، تاکہ تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اور راحت رسانی کی کارروائیوں میں ہمالیائی ملک کی مدد کی جا سکے۔
