نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اموات کی تعداد 587 تک پہنچی، تقریباً ایک ہزار افراد لاپتا

نیپال میں تباہ کن سیلاب سے 587 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ چین کے تبت میں بھی 5 اموات ہوئی ہیں۔ دونوں ممالک میں تقریباً ایک ہزار افراد لاپتا ہیں، امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کے بعد تباہی کا منظر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نیپال میں بدھ کے روز گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 587 ہوگئی ہے، جبکہ چین کے تبت خطے میں بھی 5 افراد جان گنوا چکے ہیں۔ اس طرح دونوں ممالک میں قدرتی آفت سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 592 تک پہنچ گئی ہے۔ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔

نیپال اور چین نے جمعہ کو خطرناک صورتحال کے باعث عارضی طور پر روکے گئے امدادی اور ریسکیو آپریشن کو دوبارہ شروع کردیا۔ حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

اس دوران نیپال میں صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی ہے، کیونکہ سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں رابطے اور آمدورفت کو متاثر کیا ہے۔ نیپال کے رسووا ضلع میں بھوٹے کوشی ندی میں آنے والی شدید طغیانی سے کنٹینر ٹرک کاروبار کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 400 سے زیادہ کنٹینر ٹرک سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔

نیپال ٹرک کنٹینر کاروباری سنگھ کے مطابق، ان ٹرکوں کے ڈرائیوروں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ صرف 400 سے زیادہ ڈرائیوروں کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ معاون ڈرائیوروں، تاجروں اور کسٹم ایجنٹوں کو شامل کرنے پر یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ افراد تہواروں کے لیے سامان لینے رسووا گڑھی-کیروُنگ سرحدی ناکے پر پہنچے تھے۔


دوسری جانب ترشولی ہائیڈرو پاور منصوبے کی ایک سرنگ میں پھنسے 350 مزدوروں اور ملازمین کو نیپالی فوج نے بحفاظت نکال لیا ہے۔ منصوبے میں کئی ہندوستانی مزدور بھی کام کر رہے تھے۔ فوج کے مطابق سرنگ میں پھنسے تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔

سیلاب کے بعد ایک اور بڑے خطرے نے حکام کی تشویش بڑھا دی ہے۔ نیپال حکومت کی جانب سے پلینیٹ لیبز اور لینڈ سیٹ کی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق رسووا گڑھی سرحد سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر لینڈے ندی کا بہاؤ مکمل طور پر رک گیا ہے۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں ساحلی علاقے میں ایک عارضی جھیل بن گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قدرتی جھیل کا بند ٹوٹ گیا تو نچلے علاقوں میں اچانک شدید سیلاب آسکتا ہے۔

متاثرہ علاقے میں دو جھیلوں کی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق جب تک دونوں جھیلیں مکمل طور پر خالی نہیں ہوجاتیں، سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے پانی کی سطح کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ نچلے علاقوں میں کیمرے اور سینسر نصب کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

ادھر یورپی یونین نے بھی نیپال کے لیے فوری انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سیلاب میں متاثرہ افراد سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اس مشکل وقت میں نیپال کے ساتھ کھڑا ہے۔ یورپی یونین نے متاثرہ خاندانوں اور برادریوں کے لیے 20 لاکھ یورو کی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران چین سے 149 ہندوستانی شہری بھی جمعہ کو سرحد عبور کرکے بحفاظت نیپال پہنچ گئے ہیں۔ امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔