ملا عبدالغنی برادر ٹھیک ہیں اور قندھار میں ہیں ، طالبان

سوشل میڈیا پر صارفین نے ملا عبدالغنی برادر کے صدارتی محل میں آپسی لڑائی میں قتل کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کی تردید گزشتہ روز ہی عبوری نائب وزیراعظم نے تحریری بیان میں کردی ۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سوشل میڈیا میں آگ کی طرح پھیلنے والی خبر کی اب واضح تردید سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے عبوری نائب وزیر اعظم ملا عبد الغنی کے قتل کی خبر افواہ ہے اور وہ ٹھیک ہیں۔ طالبان کی جانب سے وضاحت ہوئی ہے کہ افغانستان کے عبوری نائب وزیراعظم (اول) ملا عبدالغنی برادر کے قتل کی خبر بے بنیاد ہے ۔

ملابرادر کی موت کی افواہ کو اس وقت تقویت ملی تھی جب گزشتہ روز قطری وزیر خارجہ کابل پہنچے تھے جہاں صدارتی محل میں ان کا استقبال نائب وزیراعظم (دوئم) عبدالسلام حنفی نے کیا تھا۔اس کے بعد قطری وزیر خارجہ نے افغان عبوری وزیراعظم ملا حسن اخوند اور دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی۔قطری وزیر خارجہ کے دورہ کابل کے موقع پر نائب وزیراعظم ملا برادر کی عدم موجودگی پر ان کے قتل یا زخمی ہونے کی افواہیں سامنے آئی تھیں۔


سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے ملا عبدالغنی برادر کے صدارتی محل میں آپسی لڑائی میں قتل کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کی تردید گزشتہ روز ہی عبوری نائب وزیراعظم نے تحریری بیان میں کردی تھی۔تاہم اب ملا عبدالغنی برادر نے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے موت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق اپنے آڈیو پیغام میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ میرے زخمی یا موت کی خبریں بے بنیاد افواہ ہے اور یہ خبریں دشمنوں کی جانب سے پھیلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں افغانستان میں موجود ہوں اور مختلف شہروں کے دورے پر ہوں۔


بعد ازاں طالبان کی جانب سے چند ویڈیوز بھی جاری کئے گئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر قندھار میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کررہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔