امریکہ سے 18 ہزار ہندوستانیوں کو واپس بھیجے جانے کا خطرہ

ڈونالڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں 18 ہزار ہندوستانی بھی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس&nbsp;</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری کا فیصلہ کیا ہے۔ معلومات کے مطابق اس کی تیاری کے لیے یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ملک بدری کے لیے تقریباً 15 لاکھ افراد کی فہرست تیار کی ہے۔ ان میں سے تقریباً 18 ہزار ہندوستانی شہری امریکی حکومت کی تیار کردہ فہرست میں شامل ہیں۔

واضح رہےکہ انتخابات کے دوران سخت امیگریشن پالیسیوں کا اعلان کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے غیر قانونی مائیگریشن پر کام کریں گے۔ اس کی تیاری کے لیے یو ایس امیگریشن کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے ملک بدری کے لیے تقریباً 15 لاکھ افراد کی فہرست تیار کی ہے۔ ان میں سے تقریباً 18 ہزار ہندوستانیوں کو ہندوستان بھیجے جانے کا خطرہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تمام ہندوستانیوں کے ہندوستان واپس آنے کے اخراجات کون ادا کرے گا؟


معلومات کے مطابق امریکی حکومت اپنے خرچ پر 18 ہزار ہندوستانیوں کو واپس بھیجے گی۔ قاعدے کے مطابق اگر کسی شہری کو کسی ملک سے بے دخل کیا جاتا ہے تو جس ملک سے اسے بے دخل کیا جاتا ہے وہاں کی حکومت اسے واپس بھیجنے کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ دوسرے ملک بھیجے جانے تک کھانے پینے اور دیگر سہولیات کے اخراجات ملک خود برداشت کرتا ہے۔ یعنی 18 ہزار ہندوستانیوں کو واپس بھیجنے کا خرچ امریکی حکومت برداشت کرے گی۔

واضح رہے کہ ملک بدری کے اخراجات وہ ملک برداشت کرتا ہے جہاں سے اس شخص کو ڈی پورٹ یعنی ملک بدر  کیا جاتا ہے۔ کسی ملک میں رہنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین پر عمل کرے۔ اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے ملک چھوڑنے کے لیے کہا جا سکتا ہے اور اس عمل کی قیمت اس ملک کو برداشت کرنی چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔