’آؤ، مجھے پکڑ کر دکھاؤ‘، وینزویلا پر حملہ اور صدر مادورو کی گرفتاری سے ناراض کولمبیائی صدر نے ٹرمپ کو للکارا!
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وہ بمباری کرتے ہیں، تو دیہی لوگ پہاڑوں میں ہزاروں گوریلا بن جائیں گے۔‘‘

امریکہ کے ذریعہ وینزویلا پر کیے گئے حملہ اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے امریکی صدر ٹرمپ لگاتار تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کئی ممالک نے اس سلسلے میں اپنی آواز بلند کی ہے، اور اب کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی اس معاملے میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وینزویلا کے پڑوسی ملک کولمبیا کے صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو للکارتے ہوئے چیلنج پیش کیا ہے کہ وہ انھیں پکڑ کر دکھائیں۔
گستاوو پیٹرو نے پیر کے روز وینزویلا میں ہوئے امریکی فوجی آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’’آؤ، مجھے پکڑو۔ میں تمھارا یہاں انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’اگر وہ (امریکہ) بمباری کرتے ہیں تو دیہی عوام پہاڑوں میں ہزاروں گوریلا بن جائیں گے۔ اور اگر وہ ان کے چہیتے صدر کو گرفتار کرتے ہیں تو وہ عوام کے ’جیگوار‘ کو جگا دیں گے۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کولمبیا کی عوام انھیں پیار کرتی ہے اور احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔
واضح رہے کہ گستاوو پیٹرو 1990 کی دہائی میں اسلحہ چھوڑنے سے قبل ایک لیفٹ وِنگ گوریلا تھے۔ انھوں نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’میں نے قسم کھائی تھی کہ میں دوبارہ اسلحہ نہیں اٹھاؤں گا، لیکن اپنی زمین کے لیے میں پھر سے اسلحہ اٹھانے کو تیار ہوں۔‘‘ پیٹرو کا یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے ایک بیان کا سبب بھی ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’کولمبیا بھی بہت بیمار ہے، اسے ایک بیمار آدمی چلا رہا ہے، جسے کوکین بنانا اور اسے یونائٹیڈ اسٹیٹس کو فروخت کرنا پسند ہے۔‘‘ ٹرمپ نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ ’’وہ (پیٹرو) زیادہ وقت تک ایسا نہیں کر پائے گا، میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ کولمبیا کے خلاف ایسی ہی مہم شروع کرنا مجھے اچھا لگے گا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔