وینزویلا میں ’بے کار‘ ثابت ہوئے چینی سامان، راڈار اور سیٹلائٹ سبھی ناکام، اسلحوں نے بھی دیا دھوکہ!

سنہ 2000 کے بعد سے وینزویلا نے چین سے کثیر مقدار میں اسلحے خریدے تھے۔ مقصد صاف تھا، امریکہ جیسے کسی بڑے خطرے سے خود کو بچانا۔ لیکن مادورو کے خلاف ہوئے آپریشن میں یہ اسلحے کوئی اثر نہیں دکھا سکے۔

<div class="paragraphs"><p>گرفتار وینزویلا کے صدر مادورو، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کے ہی ملک سے گرفتار کر نیویارک پہنچا دیا، جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس کارروائی سے نہ صرف وینزویلا کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے، بلکہ اس نے وینزویلا میں چین کی پوری حکمت عملی پر بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ جس چینی اسلحے، راڈار اور تکنیک کی مدد سے مادورو حکومت خود کو محفوظ سمجھ رہی تھی، وہ امریکی آپریشن کے سامنے بے اثر ثابت ہو رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب بیجنگ ’ڈیمیج کنٹرول‘ کرنے میں مصروف ہو گیا ہے۔

سنہ 2000 کے بعد وینزویلا نے چین سے کثیر مقدار میں اسلحے خریدے تھے۔ مقصد صاف تھا، امریکہ جیسے کسی بڑے خطرے سے خود کو بچانا۔ لیکن مادورو کے خلاف ہوئے آپریشن میں یہ اسلحے کوئی اثر نہیں دکھا سکے۔ چین سے خریدے گئے جے وائی ایل-وَن 3 ڈی ایئر سرویلانس راڈار اور جے وائی-27 اے لانگ رینج ایئر ڈیفنس راڈار امریکی موومنٹ کو روکنے میں پوری طرح ناکام رہے۔ امریکہ نے ان راڈار سسٹم کو غیر فعال کر دیا اور تقریباً 150 ہیلی کاپٹر سیدھے کاراکس میں اتار دیے۔


وینزویلا کے پاس طویل دوری کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تھا، جن میں ایس-300 وی اور بُک-ایم 2 جیسے سسٹم شامل تھے۔ امید کی جا رہی تھی کہ یہ کسی بھی غیر ملکی حملے کو روک سکتے ہیں، لیکن امریکی کارروائی کے سامنے یہ سسٹم بھی کام نہیں آئے۔ اس سے قبل پاکستان میں بھی چینی اسلحوں کی صلاحیت پر سوال اٹھ چکے ہیں، اور اب وینزویلا نے ان اندیشوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اسلحوں کے ساتھ ساتھ چین کا سیٹلائٹ نیٹورک بھی بحران میں ہے۔ وینزویلا کا ایل سومبریرو سیٹلائٹ اسٹیشن، جسے چین نے بنایا تھا، ملک کے واحد فعال سیٹلائٹ کو آپریٹ کرتا ہے۔ اب امریکہ کی براہ راست مداخلت کے بعد اندیشہ ہے کہ چین کو اس اسٹیشن سے باہر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف وینزویلا میں، بلکہ چین کی عالمی سیٹلائٹ نگرانی صلاحیت کو بھی بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔


وینزویلا کا موبائل اور انٹرنیٹ سسٹم بھی بہت حد تک چینی کمپنیوں ہوائی اور زیڈ ٹی ای پر منحصر ہے۔ اقتدار میں تبدیلی کے بعد ان کمپنیوں کے معاہدے رد ہونے یا ان پر پابندی لگنے کا اندیشہ ہے۔ کشیدہ ماحول میں یہ سب بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی امریکی وزیر خارجہ نے صاف طور پر کہا ہے کہ امریکہ کو وینزویلا کے تیل کی ضرورت نہیں، لیکن وہ اپنے دشمنوں کو ان وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دے گا۔ یہ بیان سیدھے طور پر چین اور روس کے لیے تنبیہ تصور کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔