کیا امریکی فوج ایران میں اترنے کی غلطی کر سکتی ہے؟
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔

ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کی گرتی ہوئی کرنسی کے خلاف 28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہرے دو ہفتوں سے جاری ہیں۔خبروں کے مطابق ان دو ہفتوں میں ستر سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خامنہ ای حکومت کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، "ایران آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شاید ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔" اس سے سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ امریکہ ایران میں خامنہ ای حکومت کے خلاف فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ عہدہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران میں مظاہرے مزید پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکہ ایرانی عوام کی حمایت کرتا ہے‘‘۔ روبیو نے مزید کہا، "مجھے امید ہے کہ لوگ اب سمجھ گئے ہوں گے۔ ریاستہائے متحدہ کے صدر کوئی کھیل کھیلنے نہیں جا رہے ہیں۔ جب وہ آپ سے کہتے ہیں کہ وہ کچھ کریں گے اور کوئی مسئلہ حل کریں گے، تو ان کا مطلب یہ ہے۔"
ایران میں جاری مظاہروں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ٹرمپ کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ نے متعدد انتباہات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو مارتی ہے تو امریکہ اس کی حمایت کرے گا۔
دریں اثنا، ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے ایرانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر اسلامی جمہوریہ کے خلاف احتجاج کریں۔ انہوں نے ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔دریں اثنا، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کو کہا کہ ٹرمپ کو پہلے اپنے ملک کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ٹرمپ کو ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حشر بھی پہلے جیسے تانا شاہوں جیسا ہی ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔