لوگ باپ کو نہیں بلکہ بیٹے ولیم کو چاہتےہیں کہ وہ برطانیہ کے بادشاہ بنیں

قاری کی رائے ہے کہ ولی عہد پرنس چارلس کو اپنے بیٹے کے حق میں بادشاہت سے دست بردار ہوجانا چاہیے اور پرنس ولیم کو یہ ذمہ داری سنبھالنے کا موقع دینا چاہئے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

برطانوی اخبار’ایکسپریس ‘ نے اپنے ایک پول میں سوال کیا تھا کہ بادشاہت کا سب سے موزوں امیدوار کون ہے تو برطانوی شاہی خاندان کے پرستاروں اور نقادوں نے بعض وجوہات کی بنیاد پر بادشاہت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے بعد پرنس چارلس کے بجائے ان کے بیٹے پرنس ولیم کو بادشاہت کی ذمہ داریاں سنبھالنا چاہیے۔

’ایکسپریس‘ میں شائع پول میں رپورٹ کیا گیا ہےکہ ایک بار پھر چار ہزار کے قریب قارئین نے اس آرا کا اظہار کیا ہےکہ ولی عہد پرنس چارلس کو اپنے بیٹے کے حق میں بادشاہت سے دست بردار ہوجانا چاہیے اور پرنس ولیم کو یہ ذمہ داری سنبھالنے کا موقع دینا چاہئے۔

اخبار کے ایک ریڈر نے کہا کہ وہ شاہی خاندان سے محبت کرتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ پرنس چارلس اچھے بادشاہ یا سربراہ ریاست نہیں ہوسکتے۔ ایک اور ریڈر کا کہنا تھا کہ ملکہ کے بعد شاہی خاندان کو محفوظ رکھنے کا غالباً یہی ایک راستہ ہوسکتا ہے۔

دریں اثنا یونیورسٹی کالج لندن کے کانسٹیٹیوشنل یونٹ کے اسکول آف پبلک پالیسی نے بذریعہ ’ایکسپریس‘ پول میں اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 60 برس تک شاہی تخت و تاج کے وارث کی حیثیت سے انتظار کرنے والے شہزادہ چارلس قدرتی طور پر یہ چاہیں گے کہ وہ تخت سنبھالیں اور شاہی ذمہ داریاں ادا کریں، اس حوالے سے انھوں نے خود کو تیار کرنے کے لیے اتنا طویل وقت دیا۔

لیکن ساتھ ہی اگر وہ چاہیں کہ چند برس بطور بادشاہ فرائض ادا کرنے کے بعد اپنی بڑھتی عمر کے پیش نظر پارلیمنٹ سے کہیں کہ وہ بادشاہت اپنے بیٹے شہزادہ ولیم کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی پر منحصرہے۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next