حکومت برطانیہ نے ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیل صنعت کو ’کمپٹیشن ایکٹ‘ سے نکال دیا

کمپٹیشن ایکٹ 1998 مسابقت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مارکیٹ میں سرفہرست کمپنیوں کو اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرنے سے روکتا ہے۔

تیل قیمتیں ہر روز نیا ریکارڈ بنا رہی ہیں
تیل قیمتیں ہر روز نیا ریکارڈ بنا رہی ہیں
user

یو این آئی

لندن: برطانیہ کی حکومت نے تیل کی صنعت کو کمپٹیشن ایکٹ 1998 سے عارضی طور پر خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گیس اسٹیشنوں کو ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ کو کم کیا جا سکے۔ محکمہ تجارت، توانائی اور صنعتی حکمت عملی نے یہاں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تجارت کے سکریٹری کوسی کورٹینگ نے ایندھن کی صنعت کو عارضی طور پر کمپٹیشن ایکٹ 1998 سے خارج کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ اطلاعات کا اشتراک اور ایندھن کی فراہمی کو ہموار کیا جا سکے۔ برطانیہ میں ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کے دوران مال اور ایندھن کی بھی قلت ہے۔

واضح ر ہے کہ کمپٹیشن ایکٹ 1998 مسابقت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مارکیٹ میں سرفہرست کمپنیوں کو اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرنے سے روکتا ہے۔ کورٹینگ نے ایندھن کی صنعت کے کئی سینئر ایگزیکٹیوز سے ملاقات کی اور سپلائی چین کے دباؤ اور مقامی طلب میں اضافے سے درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔


کورٹینگ نے کہا کہ ’’ریفائنریز اور ٹرمینلز کے قریب ہمیشہ بہت زیادہ ایندھن رہا ہے اور اب بھی ہے، لہذا ہم جانتے ہیں کہ سپلائی چین میں مسائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ’ڈاؤن اسٹریم آئل پروٹوکول‘ کو نافذ کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صنعتیں اہم اطلاعات شیئر کر سکتی ہیں اور سپلائی کی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔