ایران کے سخت موقف کے بعد پیچھے ہٹنے پر مجبور امریکہ، اب 4 شرائط کے بجائے صرف 2 پر ہوگی بات چیت
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’’اگر اس کے اوپر حملہ ہوتا ہے تو وہ امریکہ کے اتحادیوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایسے میں ایران کی جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے۔‘‘

کشیدگی کے درمیان ایران کے سخت تیور نے امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ترکیہ کے انقرہ میں مجوزہ امن معاہدہ کی میٹنگ سے قبل امریکہ نے ایران کے متعلق قائم کی گئی شرطوں کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔ پہلے ایران سے بات چیت کے لیے امریکہ نے 4 شرطیں رکھی تھیں، اب اسے 2 کر دیا ہے۔ امریکی آؤٹ لیٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق مصر، قطر اور ترکیہ نے اس سلسلے میں معاہدے کی پہل کی ہے، اسی کے تحت انقرہ میں امریکی مندوب اسٹیو وٹکاف کے ساتھ ایران کے افسر میٹنگ کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے معاہدے کی امید ہے۔ ایران مضبوطی سے اس کام میں مصروف ہے۔ اسے امریکی حملے کے نتائج کا معلوم ہے۔ ہم نے ایران کے آس پاس اپنا یو ایس ایس ابراہم بھیج دیا ہے۔ ’وال اسٹریٹ جنرل‘ کے مطابق امریکہ ایران کے جوابی کارروائی کو دیکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں ایک ’ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس‘ (ٹی ایچ اے اے ڈی) کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل ایران کا کہنا ہے کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو ہم اسے علاقائی جنگ میں تبدیل کر دیں گے۔
امریکہ نے بات چیت کے لیے پہلے 4 شرطیں رکھی تھیں، جس کی وجہ سے ایران نے بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، دوسری یہ ہے کہ لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا، چوتھی اور آخری شرط یہ ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں بنائے گا۔ امریکہ نے اب ان میں سے صرف 2 شرطوں پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کے وزیر خارجہ نے اس کے اشارے دیے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میری 2 ہی خواہش ہے، ایک یہ کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور دوسری یہ کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق معاہدہ کبھی بھی ہو سکتا تھا، لیکن امریکہ کی طرف سے غلط شرطیں تھوپی جا رہی تھیں۔ ہم جوہری ہتھیار نہیں بنانے جا رہے ہیں، لیکن بقیہ شرائط کو بھی ہم نہیں مان رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے براہ راست طور پر امریکہ کو دھمکی دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کے اوپر حملہ ہوتا ہے تو وہ امریکہ کے اتحادیوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایسے میں ایران کی جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بحرین، اردن، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور اسرائیل جیسے ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔ یہی نہیں ایران سے جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز اور بحر احمر بند ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں عرب اور امریکہ کے ساتھ ساتھ ایشیا میں بھی تجارت پر اثر ہوگا۔ سعودی اور ترکیہ جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ جنگ کے درمیان بات چیت ہی بہتر ہے۔ یو اے ای، ترکیہ اور سعودی نے جنگ کے دوران امریکہ کو اپنا بیس دینے سے انکار کر دیا ہے۔