کتنے فلسطینیوں کی موت کے بعد آپ کچھ کریں گے، فلسطینی نمائندے کا یو این سے سوال

غزہ پٹی میں احتجاج کرتا ایک فلسطینی

فلسطینی نمائندہ نے کہا کہ اسرائیل نے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی مندوب نے فلسطینی تنظیم حماس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کو قید میں رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ: غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی بہیمانہ کارروائی کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔دنیا بھر میں لوگ اسے فلسطینیوں کا قتل عام قرار دے رہے ہیں۔ دریں غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں فلسطینی ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر 62 جاپہنچی ہے۔

پیر کو غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے62 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے بعد منگل کو اقوام متحدہ میں فلسطینی اور اسرائیلی مندوبین کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

فلسطینی نمائندہ نے کہا کہ اسرائیل نے ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی مندوب نے فلسطینی تنظیم حماس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کو قید میں رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کونسل کی پولش صدر جوانا رونیکا نے غزہ میں ہلاک ہونے والے افراد اور ’طویل عرصے سے جاری تنازع میں ہلاک ہونے والے افراد‘ کی موت پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی درخواست کی۔

بی بی سی کے مطابق اجلاس میں متعدد ممالک نے غزہ میں ہونے والے شدت پسند واقعات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

فلسطین کے اقوام متحدہ میں نمائندے ریاد منصور نے’اسرائیل کی جانب سے برپا کیے جانے والے نفرت انگیز قتل عام‘ کی شدید مذمت کی اور اسرائیلی فوجی آپریشن کو روکنے کے علاوہ بین الاقوامی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا۔

ریاد منصور نے اقوام متحدہ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ انھوں نے ماضی میں ہونے والے واقعات کی کوئی تحقیق نہیں کرائی۔’’کتنے فلسطینیوں کی موت کے بعد آپ کچھ کریں گے؟ کیا موت ان کا نصیب تھی؟ کیا ان بچوں کو ان کے والدین سے چھین لیے جانا صحیح تھا؟‘‘

دوسری جانب اسرائیل کے مندوب ڈینی ڈانن نے کہا کہ غزہ کی سرحد پر ہونے والے واقعات مظاہرے نہیں تھے بلکہ وہ تشدد پر مبنی ہنگامہ تھا۔

انھوں نے فلسطینی تنظیم حماس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے غزہ کےعوام کو قیدی بنا کر رکھا ہوا ہے۔’’حماس لوگوں کو تشدد پر مجبور کرتا ہے اور اور عام شہریوں کو سامنے لاتا ہے جس سے ان کے مرنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اسرائیل پر الزام لگاتے ہیں۔‘‘

اجلاس میں دوسرے ممالک نے بھی غزہ میں ہونے والے واقعات کی کڑی تنقید کی ہے۔جرمنی، برطانیہ، آئرلینڈ اور بیلجیئم نے آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور آئرلینڈ نے اس کے ساتھ اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تدفین کے بعد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ مظاہرے پیر کو ہونے والے مظاہروں سے بہت کم ہیں جن میں کم از کم62فلسطینی ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کرا رہا ہے تاکہ حالت قابو میں آ سکیں۔ تاہم زیرقبضہ غربِ اردن میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت ہے اور وہ اس اقدام کو اسرائیل کے تمام شہر پر قبضے کی امریکی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 27 سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس نے اس واقعہ کو’ نسل کشی‘ قرار دیا ہے۔ یہ غزہ میں 2014 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے مہلک ترین دن تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنی فوج کے اقدامات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ وہ غزہ کی شدت پسند تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع کر رہی تھی۔

ہلاک ہونے والوں کی تدفین اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر ہو رہی ہے۔ یہ وہ دن ہے جسے فلسطینی ’نکبہ‘ قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے تباہی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

غزہ کے مرکزی اسپتال’ الشفا‘ میں پیر کے روز زخمی ہونے والے افراد کو خون کا عطیہ دینے کے لیے قطاروں میں لوگ کھڑے دکھائی دیئے۔

پیر ہی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔ اس متنازع منصوبے کی بہت سے ملکوں نے مخالفت کی تھی۔

خیال رہے فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران 40 ہزار کے قریب لوگ اسرائیلی سرحد پر لگے جنگلے پر 13 مقامات پر مشتعل ہو گئے۔

انھوں نے پتھر اور جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے اس کا جواب فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں سے دیا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے ’’دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں پر فائرنگ کی ہے نہ کہ مظاہرین پر۔ مظاہرین کو آنسو گیس جیسے عام طریقوں سے منتشر کیا گیا‘‘۔

سب سے زیادہ مقبول