جاپان میں آیا 5.9 شدت کا زلزلہ، 23 افراد زخمی، ٹوکیو میں بلیک آؤٹ، ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر
حکام کے مطابق زلزلے میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں، حالانکہ ان لوگوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں بتایا گیا۔

جاپان میں اتوار کی علی الصبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی ابتدائی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے مشرقی جاپان کے کئی علاقوں سمیت راجدھانی ٹوکیو میں بھی محسوس کیے گئے۔ حکام کے مطابق زلزلے میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں، حالانکہ ان لوگوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں بتایا گیا۔ ’جاپان موسمیاتی ایجنسی‘ کے مطابق زلزلہ جنوبی ایباراکی صوبے میں آیا۔ اس کا مرکز زمین سے تقریباً 70 کلومیٹر نیچے تھا۔ یہ علاقہ جاپان کے ان علاقوں میں شامل ہے، جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی ابتدائی شدت 5.8 بتائی ہے۔
حکام کے مطابق 4 صوبوں میں مجموعی طور پر 23 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں سیتاما میں 9، کاناگاوا میں 9، چیبا میں 4 اور ایباراکی میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ جس وقت زلزلہ آیا، اس وقت تمام لوگ سو رہے تھے۔ اچانک شدید جھٹکے آنے سے لوگ گر گئے یا فرنیچر اور دروازوں سے ٹکرا گئے۔ رپورٹ کے مطابق کاناگاوا کے یوکوہاما میں 80 برس سے زیادہ عمر کی ایک خاتون بستر سے گر گئیں اور ان کے کولہے میں شدید چوٹ آئی۔ ادھر زلزلے کی وجہ سے ٹوکیو اور ناریتا ایئرپورٹ کے درمیان چلنے والی ایکسپریس ٹرینوں کی خدمات میں تاخیر ہوئی۔ وہیں شمال مشرقی علاقوں کی کچھ لوکل ٹرینیں بھی متاثر ہوئیں۔ حالانکہ ایسٹ جاپان ریلوے کے مطابق شنکانسن بلٹ ٹرین کی خدمات معمول کے مطابق چلتی رہیں اور ان میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔
جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائچی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد موبائل فون پر ہنگامی انتباہ بھی جاری کیا گیا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے ٹوکیو بری طرح لرز اٹھا۔ ٹوکیو کے کوٹو علاقے میں زیر زمین پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی، جس سے سڑک پر پانی بھر گیا۔ بعد میں ملازمین نے پائپ کی مرمت کرکے پانی کے لیکج کو روک دیا۔ زلزلے کی وجہ سے ٹوکیو میں تقریباً 460 گھروں کی بجلی بھی چلی گئی تھی، جسے اتوار کی صبح تک بحال کر دیا گیا۔
’نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی‘ نے کہا کہ اسے تقریباً ایک درجن جوہری بجلی گھروں اور جوہری مواد سے متعلق دیگر تنصیبات سے کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جاپان میں گزشتہ ماہ کیوشو جزیرے کے کُماموٹو علاقے میں 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا۔ اس حادثے میں 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 364 افراد زخمی ہوئے تھے۔ زلزلے سے 1500 سے زائد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں اور تقریباً 20000 عمارتیں متاثر ہوئی تھیں۔
