امریکہ کے تازہ حملوں میں 14 ایرانی ہلاک، خامنہ ای کی آخری رسومات والے شہر میں نظر آیا ٹرمپ کی موت کا فرمان!

امریکہ نے خامنہ ای کی آخری رسومات سے عین قبل مشہد کے 2 بڑے پلوں کو اڑا دیا، جس سے ایرانیوں میں شدید ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i

امریکہ کے ذریعہ ایران کے کئی شہروں پر تازہ حملہ نے مشرق وسطیٰ میں حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اس حملہ کے جواب میں ایران نے بھی بحرین اور کویت میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تیاریوں میں مصروف ہے، امریکی حملہ سے لوگوں میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایرانیوں کی ناراضگی کا ایک نظارہ مشہد میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں 9 جولائی کو خامنہ کی تدفین ہونے والی ہے۔ مشہد میں لوگوں نے ٹرمپ کے خلاف پوسٹر لگا دیے ہیں، جن میں ان کی موت کا فرمان لکھا گیا ہے۔

دراصل امریکہ نے خامنہ ای کی آخری رسومات سے عین قبل مشہد کے 2 بڑے پلوں کو اڑا دیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ خامنہ ای کے جنازہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔ ان خبروں کے درمیان مشہد کے ایک ہوٹل کے باہر ٹرمپ کے نام کا پوسٹر دیکھا گیا ہے۔ اس پوسٹر پر لکھا گیا ہے ’وی وِل کِل ٹرمپ‘ (ہم ٹرمپ کو مار ڈالیں گے)۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے خلاف اس سے قبل بھی ایران میں نعرے لگائے گئے تھے۔ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے والی ریلی کے دوران بھی لوگوں نے ٹرمپ کو ہلاک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بلند کیا تھا۔


بہرحال، واشنگٹن نے گزشتہ 2 دنوں میں ایران کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں 14 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ایرانی وزارت صحت نے ان اموات کی تصدیق کی ہے، اور ساتھ ہی کہا ہے کہ 78 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج مختلف مقامی اسپتالوں میں چل رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ امریکہ نے ایران کے 5 خطوں میں ہوائی حملے کیے ہیں۔

تازہ حملہ کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر دھوکہ دینے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ کا الزام لگا کر حملہ کیا ہے، جبکہ یہ الزام جھوٹا ہے۔‘‘ ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی کارروائی اقوام متحدہ چارٹر اور جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


فکر انگیز بات یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اب یہ جنگ وسعت اختیار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں امریکی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ جنگ ہفتوں سے لے کر مہینوں تک کھنچ سکتی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے دوران بڑی تعداد میں تیل ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکلے، جس کی وجہ سے امریکہ کے پاس موقع ہے کہ وہ تھوڑا طویل مدت تک حملوں کو جاری رکھ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔