ایسے قصّوں پر یقین کرنے کے لئے صرف آپ کو مودی بھکت ہونا پڑے گا

وزیر اعظم نریندر مودی نے لاکھوں نہیں تو ہزاروں مرتبہ تو یہ بات دہرائی ہے کہ وہ بچپن میں چائے بناتے تھے، لہذا اب ملک کا بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ وہ کبھی ’چائے والے‘ تھے۔

وزیر اعظم کے آئے دن کے بیانات اوران کے عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ملک کے عوام کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کچھ بھی پروساجا سکتا ہے ، وہ ملک کے عوام کو اتنا سیدھا سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے قصے سناتے ہیں جیسے دادا ، دادی اپنے پوتے ،پوتیوں کو پریوں کی کہانی سنایا کرتے ہیں ، بچے ان کہانیوں کو سچ مان کر ان کے کرداروں کو حقیقی کردار تصور کرنے لگتے ہیں۔جمعہ 10 اگست کو ’ولرڈ بایو فیول ڈے ‘ تھا ، اس موقع پر وزیر اعظم نے لوگوں کو دو دلچسپ قصے سنا ڈالے، جس کے بعد اس بات پر یقین ہو چلا کہ وہ ملک کے عوام کو بے وقوف سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے ۔انہوں نے ایک ایسے چائے بیچنے والے کا ذکر کیا جو گندے نالے سے نکلنے والی گیس سے چائے بنا لیتا تھا اور ایک ایسے شخص کا قصہ سنایا جو بایو گیس کو ٹریکٹر کی ٹیوب میں بھر کر اپنے کھیت پر پانی کا پمپ چلاتا تھا ۔ دراصل اس طرح کے قصے سنا کر وہ لوگوں کو بایو فیول کی اہمیت بتانا چاہ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ’’میں نے ایک اخبار میں پڑھا کہ ایک شہر میں نالے کے پاس ایک شخص چائے بیچتا ہے۔ اس شخص کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ گندے نالے سے نکلنے والی گیس کا استعمال کیا جائے۔ اس نے ایک برتن کو الٹا کر کے اس میں سراخ کر لیا اور پائپ لگا دیا، جس کے سبب گٹر سے جو گیس نکلتی تھی اسے وہ چائے بنانےمیں استعمال کرنے لگا۔‘‘

وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص ٹریکٹر کی ٹیوب کو اسکوٹر سے باندھ کر لے جا رہا ہے، ہوا سے بھری ٹیوب کافی بڑی ہو گئی تھی جس سے نقل و حمل میں کافی پریشانی ہو رہی تھی ۔ پوچھنے پر اس شخص نے بتایا کہ وہ باورچی خانہ کے کچرے اور مویشیوں کے گوبر سے بایوگیس پلانٹ سے گیس بناتا ہے اور اس گیس کو ٹیوب میں بھر کر کھیت پرلے جاتا ہے جہاں اس گیس سے پانی کا پمپ چلاتا ہے جس سے کھیت کی سینچائی کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں جو دو واقعات بیان کئے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ملک کے عوام کو بے انتہا بے وقوف سمجھتے ہیں ۔ ویسے ایسا سمجھنے میں وہ غلط بھی نہیں ہیں کیونکہ سال 2014 میں عوام کو کچھ جملوں کے ذریعہ ہی انہوں نےبے وقوف بنایا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی بیرون ممالک میں جمع کالادھن لے کر آیئں گے جس کے سبب ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے آ جایئں گے۔ ہر فوجی کی شہادت کے بدلے میں پاکستانی فوجیوں کے دس سر لے کر آیئں گے۔ جب عوام نے ان کے ان جملوں پر بھروسہ کر کے ان کو اقتدار سونپ دیا اس کے بعد بھی وہ جملہ بازی سے باز نہیں آئے ، انہوں نے نوٹ بندی کے بعد ملک کے غریب عوام کو پھر خواب دکھا ئے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ملک امن کا گہوارہ بن جائے گا ، عوام بے چاری گھنٹوں بینکوں کی لائن میں لگ گئی اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے، بلکہ کئی غریبوں نے تو اپنی جان بھی دے دی ۔ اس لئے مودی جی کا یہ سوچنا غلط نہیں ہے کہ عوام کو کچھ بھی کہہ کر بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔

اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سائنس کی باریکیوں کو آسان بنا کر پیش کرنے کے چکر میں وزیر اعظم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو قصہ وہ سنا رہے ہیں وہ اسی ریاست کے ہیں یعنی گجرات، جس کو ماڈل ریاست کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا اور اقتدار حاصل کیا۔ دراصل اس ریاست کا اس وقت یہ حال تھا کہ غریب چائے والے کی اتنی بری حالت اور کسان کو سینچائی میں کس طرح کی دشواریاں درپیش تھیں ، بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ گجرات میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی ، غریب عوام کو خود اپنے راستے نکالنے پڑتے تھے۔

مودی جی !ملک کے عوام ایک بار دھوکہ میں آ سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ ایسے قصوں پر یقین کرنے لگیں جن کا نہ کوئی سر ہو نہ پیر اور بار بار ایسے جملوں اور قصوں کے جھانسے میں آتے رہیں ۔ایسے جھانسوں میں آنے کے لئے تو انسان کا چولا اتار کر صرف آپ کا بھکت ہونا پڑے گا۔

سب سے زیادہ مقبول