مدھیہ پردیش میں بچیاں اور خواتین غیر محفوظ: سندھیا

مدھیہ پردیش کے اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ اسپتال (ایم وائی ایچ ) میں زیر علاج مندسور اجتماعی آبروریزی کی شکار معصوم بچی کی صحت میں مسلسل بہتری ہو رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اندور، یکم جولائی (یواین آئی) مدھیہ پردیش کانگریس پرچار کمیٹی کے صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ جیوتی رادتیہ سندھیا نے ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بچیاں، لڑکیاں اور خواتین غیر محفوظ ہیں اور حکومت ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مندسور میں اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کی کوشش کا شکار ہونے والی سات سالہ معصوم اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ اسپتال (ا یم وائی ایچ ) میں داخل ہے۔ سندھیا گزشتہ رات بچی کے صحت کی معلومات لینے اسپتال پہنچے تھے۔

اس دوران انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران ریاستی حکومت پر بے حسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ایک طرف اس طرح کے معاملات میں سخت قانون کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کی حکومت کے تابع نظام خواتین کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ مسٹر سندھیا نے مزید کہا کہ وہ ریاست کا شہری ہونے کے ناطے یہ الزام لگا رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ متاثرہ خاندان کی ذہنی کیفیت اور بچی کی حالت پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ سندھیا نے سرکاری ایم وائی ایچ اسپتال میں بچی کے چل رہے علاج کے سوال پر کہا کہ انہیں ایم وائی ایچ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ بہترین طریقے سے بچی کے علاج میں لگے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم سب لوگوں سے زیادہ سمجھدار بچی کے علاج میں لگے ڈاکٹر ہیں۔سندھیا نے بچی کے ہو رہے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ منگل کو مندسور میں سات سالہ معصوم کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کو قتل کرنےکی کوشش کی گئی تھی۔ جمعہ کو بچی کو شدیدتشویشناک حالت میں اندور کے ایم وائی ایچ اسپتال میں علاج کے لئے بھرتی کیا گیاتھا۔

مندسور اجتماعی آبروریزی: معصوم کی صحت میں بہتری

اندور: مدھیہ پردیش کے اندور کے مہاراجہ یشونت راؤ اسپتال (ایم وائی ایچ ) میں زیر علاج مندسور اجتماعی آبروریزی کی شکار معصوم بچی کی صحت میں مسلسل بہتری ہو رہی ہے۔

ایم وائی ایچ کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وی ایس پال نے 'یو این آئی' کو بتایا کہ پانچ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم بچی کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ متاثرہ کی بہترہوتے صحت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ 2-3 دنوں میں اس کو انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) سے باہر لا کر جنرل وارڈ میں رکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر پال نے بتایا کہ بچی کو بسکٹ، دلیہ اور دیگر مائع خوراک دی جا رہی ہے۔ بچی اپنے لواحقین سے بات چیت کر رہی ہے۔

گزشتہ منگل کو مندسور میں سات سال کی ایک معصوم کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کرنے کے بعد اس کےقتل کی کوشش کی گئی تھی۔ جمعہ کو بچی کو شدید تشویشناک حالت میں اندور کے ایم وائی ایچ اسپتال میں علاج کے لئے بھرتی کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next