ٹرمپ کے دورے کے بعد خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت تو ختم ہوچکا لیکن اس دورے کے دوران ہونے والی ہتھیاروں کی خریداری کی ڈیل نے خطے میں ایک نئی سرد جنگ کا راستہ کھول دیا ہے۔

ٹرمپ کے دورے کے بعد خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع
ٹرمپ کے دورے کے بعد خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع
user

ڈی. ڈبلیو

واضح رہے کہ امریکی صدر نے اپنے حالیہ دورہ بھارت میں تین بلین ڈالرز سے زائد کے ہتھیاروں کی خریداری کا ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے مطابق امریکا بھارتی نیوی کے لیے 24 سکورسکائی ایم ایچ ساٹھ آر سی ہاک ملٹی رول ہیلی کاپٹرز فراہم کرے گا جبکہ بری فوج کے لیے چھ بوئنگ اے ایچ چونسٹھ ای اپاچی گارڈین ہیلی کاپٹرز فراہم کرے گا۔

اس ڈیل سے پاکستان کے دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے خیال میں اس سے نہ صرف خطے میں ہتھیاورں کی دوڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا بلکہ خطے میں غربت و افلاس میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ پاکستان اور بھارت اس دوڑ میں خطیر پیسہ خرچ کر سکتے ہیں۔
معروف دفاعی مبصر جنرل امجد شعیب کے خیال میں پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کہ وہ بھی اسٹریجک توازن کے لیے بھاگ دوڑ کرے: ''یہ انتہائی ایڈوانس ہیلی کاپٹرز ہیں اور یہ حملے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں میزائل بھی نصب ہیں اور یہ سب میرین کا پتہ بھی چلا سکتے ہیں۔ پاکستان کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ دفاعی نوعیت کے ہیں۔ بھارت نہ صرف امریکا سے ہتھیار لے رہا ہے بلکہ وہ سات بلین ڈالرز سے زیادہ کے ہتھیار روس سے بھی خرید رہا ہے۔ تو صدر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ کر کے اسٹریٹیجک توازن کو بگاڑ دیا ہے اور اب پاکستان اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کرے گا۔‘‘

امجد شعیب کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے علاوہ یہ ہتھیار اس وقت کسی کے پاس نہیں ہیں: ''ممکن ہے کہ ترکی کے پاس یہ ہتھیار ہوں کیونکہ وہ نیٹو کا اتحادی ہے لیکن ہم اس سے یہ ہتھیار لیں گے تو اسے امریکہ سے اجازت لینا ہوگی۔ اور میر ا خیال ہے کہ چین کے پاس اس نوعیت کے ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں۔ تو پاکستان کے لیے یہ ایک مشکل صورت حال ہے۔‘‘
خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی نیوی بھارت کے مقابلے میں پہلے ہی کمزور تھی اور اب ان ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے بعد بھارت مزید مضبوط ہوجائے گا جبکہ پاکستان نیوی کے لیے یہ بات مزید مشکل ہوجائے گی کہ وہ بھارتی نیوی کا مقابلہ کر سکے۔

لیکن دفاعی صلاحیت کے مقابلے سے ہٹ کر کئی ناقدین ہتھیاروں کی اس دوڑ کے پاکستان اوربھارت کی سماجی اور معاشی صورت حال پر اثرات سے متفکر ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کے خیال میں یہ دورہ خطے کے لیے بد قسمتی کا پیغام لے کر آیا: ”اس دورے اور اس کے دوران ہونے والے ہتھیاروں کے معاہدے نے امن کے اُس خواب کو مزید دھچکا پہنچایا ہے، جسے اس خطے کے ایک ارب سے زیادہ انسان برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت پہلے ہی تعلیم، صحت اور سماجی ترقی پر بہت کم پیسہ لگا رہے ہیں۔ اب ٹرمپ کے دورے کے بعد شروع ہونے والی ہتھیاروں کی اس دوڑ کی وجہ سے ان ممالک کے پاس انسانوں پرخرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقدر میں اسی طرح غربت اور بے روزگاری رہے گی۔ تو ٹرمپ کا دورہ ختم ہوگیا ہے لیکن خطے میں ہتھیاروں کی دوڑکا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ جس کے خطے پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔"
خیال کیا جارہا ہے کہ امریکا اور نئی دہلی کے درمیان ہتھیاروں کے یہ سودے یہیں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت مستقبل میں واشنگٹن سے مزید ہتھیار بھی خریدے گا۔