خلیج عمان میں ڈوبنے والا ہندوستانی جہاز ’حاجی علی‘ 4000 بھیڑ بکریاں لے کر کہاں جا رہا تھا؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے بحیرۂ عرب اور خلیجی خطہ اب انتہائی حساس بن چکا ہے۔

خلیج عمان میں ایک ہندوستانی کارگو جہاز کا غرق ہونا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس جہاز کے ڈوبنے سے پورے خطہ میں سمندری سیکورٹی کے تعلق سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ گجرات میں رجسٹرڈ مال بردار جہاز ’ایم ایس وی حاجی علی‘ مشتبہ حملہ کے بعد سمندر میں ڈوب گیا۔ یہ جہاز صومالی لینڈ سے متحدہ عرب امارات یعنی یو اے ای جا رہا تھا اور اس میں تقریباً 4 ہزار بھیڑ اور بکریاں موجود تھیں۔
سامنے آ رہی خبروں کے مطابق 57 میٹر لمبا یہ جہاز 5 مئی کو صومالی لینڈ کے بربیرا بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی منزل شارجہ بندرگاہ تھی۔ جہاز لائیو اسٹاک ٹریڈ مشن پر تھا اور عرب ممالک میں جانوروں کی سپلائی کے لیے جا رہا تھا۔ لیکن 13 مئی کی صبح تقریباً 3.30 بجے عمان کے ساحل کے قریب لیماہ علاقہ میں جہاز پر حملہ ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ جہاز پر کسی نوعیت کا حملہ ہوا جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ کئی میڈیا رپورٹس میں اسے مشتبہ ڈرون حملہ بتایا گیا ہے، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ حملہ کس نے کیا۔ آگ تیزی سے پھیلنے لگی اور آخرکار جہاز الٹ کر ڈوب گیا۔
جہاز پر عملہ کے 14 اراکین موجود تھے اور سبھی ہندوستانی تھے۔ حملہ کے بعد عملہ نے فوراً خطرے کا پیغام، یعنی ’ڈسٹریس سگنل‘ بھیجا اور لائف بوٹس کے ذریعہ جہاز چھوڑ دیا۔ عمان کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور تمام ملاحوں کو بحفاظت بچا کر دیبا پورٹ پہنچایا۔ راحت کی بات یہ رہی کہ کسی بھی عملہ کے رکن کو چوٹ نہیں آئی۔ جہاز کے مالک سلطان احمد سنگھار نے بھی تصدیق کی ہے کہ سبھی لوگ محفوظ ہیں۔
ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو ’ناقابل قبول حملہ‘ قرار دیا ہے۔ ہندوستان نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ کسی بھی حالت میں شہری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حالانکہ اب تک کسی تنظیم یا ملک نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ جہاز گجرات کے دیوبھومی دوارکا ضلع کے سلایا پورٹ پر رجسٹرڈ تھا۔ سلایا طویل عرصہ سے روایتی سمندری تجارت کا ایک بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں سے کئی چھوٹے اور درمیانے کارگو جہاز خلیجی ممالک تک سامان پہنچاتے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ دوسرا ایسا معاملہ ہے۔ اس سے پہلے سلایا کا ہی ایک اور جہاز ’الفیض نور سلیمانی-1‘ بھی آبنائے ہرمز میں مبینہ کراس فائرنگ کے دوران غرق ہو گیا تھا۔ لگاتار 2 جہازوں کے حادثے کا شکار ہونے سے گجرات کے سمندری تاجروں میں خوف بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے بحیرۂ عرب اور خلیجی خطہ اب انتہائی حساس بن چکا ہے۔ دنیا کے مصروف ترین سمندری تجارتی راستوں میں شامل اس علاقے سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بھاری مقدار میں کارگو گزرتا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی جہاز پر ہوا یہ حملہ صرف ایک سمندری حادثہ نہیں، بلکہ پورے خطے میں بڑھتے جیو پولیٹیکل خطرات کا اشارہ مانا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ان ہندوستانی تاجروں اور ملاحوں کے لیے، جو دہائیوں سے خلیجی راستوں پر منحصر ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
