کیا گھریلو تنازعہ کے سبب بھیو جی مہاراج نے جان دی؟

کیا بھیو جی مہاراج کی خود کشی کی کہانی اتنی ہی سیدھی ہے جتنی نظر آ رہی ہے۔ یا پھر کچھ ایسا ہے جسے موت کے کچھ لمحات کے بعد سے ہی چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

جانچ پوری ہونے سے پہلے ہی کیوں ایسا ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ خود کشی کی وجہ گھریلو تنازعہ ہی ہے؟

ان کے چہرے پر خوشی بھی تھی اور تناؤ بھی، بیٹی جو گھرآنے والیتھی، بیٹی کا کمرہ جاکردیکھا، کمرہ ترتیب سے نہیں تھا اہلیہ سے پوچھا کہ آخر کمرہ ٹھیک کیوں نہیں کرایا گیا، نوکروں کو بلاکر کمرے کی صفائی کروائی اور وہ وہیں موجود رہے، کمرہ کی صاف صفائی کر کے جب نوکر چلے گئے تو تھوڑی دیر میں گولی چلنے کی آواز آئی۔۔۔

گھر کے نوکر چاکر اور دیگر افراد کمرے کی طرف دوڑ پڑے، وہ لہو لہانحالت میں پڑے تھے اور پاس ہی ایک پستول پڑی ہوئی تھی، دیکھنے سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی ہے۔

وہ خوبصورت تھے، عمر محض 50 سا ل تھی۔ شہر میں ان کا آشرم تھا، ہزاروں چاہنے والےتھے۔ رہنما ہوں یا فلمی ستارے سب ان کے پیر چھوتے تھے، حکومتیں جب مشکل میں پھنستیں تو ان کی مد د لی جاتی تھی۔ وہ قدرت سے محبت کرتے تھے، دریاؤں سے انہیں بہت لگاؤ تھااس لئے وہ ان کے لئے تحریک چلانے کی بات کر چکے تھے۔ وہ دوسروں کے دکھ اور مشکلات دور کرنے کی ترکیبیں بتاتے تھے لیکن اپنی پریشانی کا حل نہیں ڈھونڈھ پائے اور اسی ندامت میں اپنی جان گنوا بیٹھے
۔

وہ بھیو مہاراج تھے... انہوں نے منگل کے روز مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔

موقع سے پستول کے ساتھ ڈیڑھ صفحہ کا ایک سوسائڈ نوٹ برآمد ہوا ہے۔ اس میں کیا لکھا وہ تو صاف نہیں ہو پا رہا ہے لیکن ان کے ہاتھ کی لکھی چار لائنیں ضرور منظر عام پر آ گئی ہیں۔ ان لائنوں میں لکھا ہے، ’’خاندان کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی تو ہونا چاہئے۔ بہت تناؤ اور دکھ کے ساتھ جا رہا ہوں۔‘‘

ان لائنوں کا مطلب نکالا گیا کہ وہ تناؤ میں تھے اور گھریلو تنازعہ سے تنگ آکر انہوں نے خودکشی کر لی۔ بھیو جی مہاراج کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے ہی اس بات کو ثابت کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں کہ انہوں نے گھریلو تنازعہ سے تنگ آکر جان دے دی۔ لیکن جو شخص خودکشی جیسا قدم اٹھانے جا رہا ہو کیا اس کی ذہنی حالت 10-15 منٹ پہلے ایسی ہوگی کہ وہ اپنے پرستاروں کو مہاشیوراتری کی مبارک باد پیش کرے۔

جرم کے اس واقعہ میں خوب مصالحہ ہے، جرم اس لئے کیوں کہ آئی پی سی کے تحت خود کشی دفعہ 309 کے تحت جرم ہے۔ اس کہانی میں ہیرو جیسا نظر آنے والا سنت مہاراج ہے، مہنگی لائف اسٹائل ہے، رالیکس گھڑیاں اور مرسڈیز جیسی گاڑیاں ، رسوخ ایسا کہ حکومتوں کو مشکل کے وقت مدد مانگنی پڑے۔ احترام ایسا کہ حکومتیں وزیر کا درجہ دینے کو بے قرار نظر آئیں۔ قدرت سے محبت ایسی کہ دریاؤں کے لئے تحریک چھیڑنے پر آمادہ ہو جائیں، پھر اچانک ان کی موت کی خبر آئے، وہ بھی خود کشی کی اور جانچ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ ثابت کیا جانے لگے کہ انہوں نے گھریلو تنازعہ سے تنگ آکر خود کشی کر لی ہے۔

کسی شاندار تھرلر جیسی اس کہانی کو لے کر کافی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔کیونکہ مبینہ خود کشی کے جو حصہ میڈیا میں لیک کیے گئے ہیں اس سے یہ تو معلوم ہوتاہے کہ وہ تناؤ میں تھے اور مایوسی ان کے اندر تک اتر گئی تھی، انہیں کسی ایسےشخص کی تلاش تھی جو خاندا ن کا خیال رکھ سکے۔

کیا وہ صرف گھریلو تنازعہ کی وجہ سے تناؤ میں تھے؟

خود کشی کے 15 منٹ قبل وہ مہاشیو راتری کی مبارک باد پیش کر رہے تھے یعنی 15 منٹ پہلے تک وہ پر سکون تھے۔

کیا وجہ ہے کہ ان کی خود کشی کے ساتھ ہی گھریلو تنازعہ کی بات بھی پھیلائی جا رہی ہے۔

سوسائڈ نوٹ کے ایک خاص حصہ کو ہی کیوں عوامی کیا گیا ہے

حکومتوں کی مشکلات دور کرنے والے بھیو جی مہاراج نے کبھی اپنے تناؤ کو کسی سے ساجھا کیوں نہیں کیا؟

سیاسی جماعتیں اس واقعہ کی غیر جانبدار جانچ چاہتی ہیں، جانچ تو ہو ہی رہی ہے لیکن جانچ پوری ہونے سے پہلے جو نتائج نکالے جا رہے ہیں وہ حیران کن ہیں۔ سیاست میں دلچسپی ہونے کے باوجود انہوں نے وزیر کا عہدہ کیوں ٹھکرا دیا تھا۔ کیا بات صرف اتنی تھی کہ انہیں وزیر مملکت نہیں بلکہ کابینی وزیر کا درجہ چاہئے تھا؟

بھیو جی مہاراج کی موت کے اگلے ہی دن آخر کیوں مدھیہ پریش کے وزیر اعلیٰ نے ایک اور سنت کا وزیر مملکت کا درجہ بڑھا کر کابینی وزیر کا کر دیا ؟

سیاسی جماعتیں سی بی آئی جانچ کی مانگ کیو ں کر رہی ہیں؟

تمام سوالوں کے جواب تو آنے والے دنوں میں ملیں گے ۔ ہمیں پولس اور جانچ ایجنسیوں پر اتنا بھروسہ تو ہونا ہی چاہئے ۔ لیکن اس سے پہلے ان کے بارے میں جو خبریں چلائی جا رہی ہیں اس سے کیس ہی ختم ہو جاتا ہے۔

جو کہانی بتائی جا رہی ہے یا بار بار بتاکر ثابت کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے وہ یہ ہے کہ بھیو جی مہاراج کی پہلی بیوی کی دو سال قبل موت ہو گئی تھی، ان کی ایک بیٹی ہے جو پونے میں پڑھائی کر رہی ہے۔ بھیو جی مہاراج نے کوئی ایک سال پہلے دوسری شادی کی۔ بیٹی اور دوسری بیوی میں بالکل نہیں بنتی کیوں کہ دوسری بیوی نے گھرمیں آتے ہی پہلی بیوی کی ساری تصویریں ہٹوا دیں۔ اسے لےکر دونوں میں ان بن رہنے لگی۔ جب بھی سوتیلی ماں اور بیٹی میں بحث ہوتی تو بھیو جی مہاراج بیٹی کی طرفداری کرتے جس سے بیوی چڑھ جاتی، منگل کو بھی بیٹی گھر آنے والی تھی ۔ اس کے آنے کی تیاریاں چل رہی تھیں ، جس بیٹی کی ہمیشہ طرفداری کرتے تھے بھیوجی مہاراج نے اسی کے کمرے میں خود کو گولی مار لی۔

سوال یہ بھی ہے کہ جب بیٹی کی طرفداری کرتے تھے تو اس پر بھروسہ بھی کرتے ہوں گے۔ پھر اپنی تمام جائیداد اپنے نوکر کو کیوں سونپ گئے۔

کیا ان کی خود کشی کی کہانی اتنی ہی سیدھی ہے جتنی نظر آ رہی ہے۔ یا پھر کچھ اور بات ہے جسے ان کی موت کے چند لمحات بعد سے ہی چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول