مقبوضہ کشمیر میں پھر وبال، مقامی مظاہرین اور پاکستانی فوج کے درمیان خونی جھڑپ، 4 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 11 لوگوں کی موت

سول سوسائٹی گروپوں کے نمائندہ اتحاد جے اے اے سی نے اقتصادی اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے منگل کے روز تحریک کا اعلان کیا تھا۔ اسے کچلنے کے لیے پاکستانی رینجر، پنجاب پولیس اور فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں ایک بار پھر تشدد پھوٹ پڑا ہے۔ یہاں اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترے مظاہرین اور پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان ہوئی خونی جھڑپوں میں 4 سیکورٹی اہلکاروں اور 7 شہریوں کی موت ہوگئی، جبکہ 70 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ تشدد کے سبب پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ اس دوران موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ سول سوسائٹی گروپوں کے نمائندہ اتحاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے اقتصادی اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے منگل کے روز تحریک کا اعلان کیا تھا۔ اسے کچلنے کے لیے پاکستانی رینجر، پنجاب پولیس (پاکستان) اور فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’ دینک جاگرن‘ کی خبر کے مطابق تنازعہ کی شروعات جمعہ کو ہوئی جب ایک کاروباری کی پولیس اہلکاروں سے مبینہ کہا سنی ہو گئی اور اسی دوران اسے گولی مار دی گئی۔ بعد میں اس کی لاش راجکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال لائی گئی جہاں جے اے اے سی کے حامی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ بعد ازاں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی۔ پونچھ سیکٹر کے کمشنر سردار وحید خان کے مطابق غیر سماجی عناصر کی فائرنگ میں 4 پولیس اہلکاروں اور ایک راہگیر کی موت ہوئی۔ اس کے بعد سیکورٹی فورس کی جوابی کارروائی میں 6 مظاہرین مارے گئے۔


پولیس کمشنر لیاقت ملک نے بتایا کہ واردات میں 23 سیکورٹی اہلکار اور 50 مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 10 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق جے اے اے سی کے سربراہ شوکت نواز میر نے ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ راجکوٹ میں حکومت نے ان کے حامیوں کے خلاف قتل عام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 جون (آج) مجوزہ لاک ڈاؤن پروگرام کے لئے تنظیم پوری طرح پُرعزم ہے۔ سیاسی کارکن امجد ایوب مرزا نے اقوام متحدہ سے علاقے میں انسانی اور سیاسی بحران کے درمیان مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں راولکوٹ میں پرامن مظاہرین پر پُرتشدد کارروائی کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ کی خبر کے مطابق جے اے اے سی نے علاقائی اسمبلی کے لیے 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات کی مخالفت میں منگل کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ہیں جن کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ ان سیٹوں پر مقامی لوگوں کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں کے لوگوں کو نامزد کر دیا جاتا ہے۔ علاقائی حکومت نے جمعہ کو جے اے اے سی کو دہشت گردی مخالف قانون کے تحت ایک ممنوعہ گروپ اعلان کر دیا تھا۔ حکومت نے گھریلو اور غیر ملکی سیاحوں کو 9 جون سے پہلے علاقہ چھوڑنے کی صلاح دی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں کسی بھی طرح کے الیکشن کی پرزور مخالفت کی ہے۔ نئی دہلی نے کہا کہ پورا جموں و کشمیر اور لداخ ہمارا ہے۔ پاکستان ناجائز قبضہ جلد ختم کرے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔